حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 275
حیات احمد ۲۷۵ جلد دوم حصہ سوم میں آئی جو براہین کے التوا پر کیا تھا۔جن ایام میں ان کے اندر مخالفت یا انکار کے کیڑے ابھی پیدا نہ ہوئے تھے انہیں ایام میں خدا تعالیٰ مخلصین کی اس جماعت کو تیار کر رہا تھا۔جیسا کہ منشی ظفر احمد صاحب کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو انہیں دنوں بڑی عقیدت پیدا ہو گئی تھی۔جب حاجی صاحب سراوہ گئے تھے اور منشی صاحب براہین سنایا کرتے تھے لیکن ۱۹۴۱ بکرمی (۱۸۸۴ء) وہ کپورتھلہ آگئے تو براہین کا با قاعدہ درس انہوں نے شروع کر دیا اور یہی جماعت صالحین پیدا ہونے کا ذریعہ ہو گیا ادھر ۱۸۸۴ء کے آخر تک حاجی صاحب نے قریباً قطع تعلق کر لیا اور خدا کے فضل سے ان کی جگہ مخلصین کی ایسی جماعت پیدا کر دی جو اپنے اخلاص و وفا میں بے نظیر ثابت ہوئی۔اب میں حاجی صاحب کو چھوڑ کر ۱۸۸۴ء کے واقعات کو ایسی ترتیب اور اسلوب سے بیان کرنے کی خدا کے فضل سے کوشش کرتا ہوں کہ جدا گانہ ڈائری یا الہامات و کشوف کے الگ باب قائم کرنے کی ضرورت نہ رہے اور اس مقصد کے لئے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ ہر مہینے کے واقعات جمع کرنے کی کوشش کروں اور اگر کوئی واقعہ ایسا ہے کہ وہ کئی ماہ تک برابر چلا گیا ہے تو اس کو یکجائی طور پر بیان کر دیا جاوے۔وَبِاللهِ التَّوْفِيقِ بقیه حاشیہ: سامان اتمام حجت کا جمع کرتا رہا۔تمہیں ہزار سے زیادہ اشتہارات اردو، انگریزی میں تقسیم ہوئے ہیں ہزار سے زیادہ خطوط میں نے اپنے ہاتھ سے لکھ کر مختلف مقامات میں روانہ کئے۔ایک عقلمند اندازہ کر سکتا ہے کہ علاوہ جد وجہد اور محنت اور عرق ریزی کے کیا کچھ مصارف ان کارروائیوں میں ہوئے ہوں گے۔ہر ایک کا معاملہ خدا کے ساتھ ہے بد باطن اور نیک باطن کو خوب جانتا ہے۔وَإِنْ يَّكَ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ گذبہ لے اور اگر بقول آپ کے میں خراب اندروں ہوں اور کعبہ کو چھوڑ کر بتخانہ کو جارہاہوں تو وہ عالم الغیب ہے آپ سے بہتر مجھے جانتا ہو گا۔لیکن اگر حال ایسا نہیں ہے تو میں نہیں سمجھ سکتا کہ آپ روز مطالبہ اس بدظنی کا کیا جواب دس گے۔اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَك كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا۔وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى - ۲۳ / دسمبر ۱۸۸۴ء مکتوبات احمدیہ جلد ششم صفحہ ۷، ۸ مکتوبات احمد جلد اصفحه ۳۹۵،۳۹۴ مطبوعه ۲۰۰۸ء) حاشیہ۔آخر میں حاجی صاحب نے معذرت کر لی تھی۔(دیکھئے مکتوبات احمد یہ جلد ششم (عرفانی) ل المؤمن : ٢٩ ک بنی اسرائیل: ۳۷