حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 264 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 264

حیات احمد ۲۶۴ جلد دوم حصہ سوم رہا ہے دراصل صرف حیات النبی (جس کا نام اب حیات احمد ہے۔عرفانی ) وہ تصنیف ہے جو اس وقت تک حضرت مسیح موعود کے سوانح اور سیرت میں ایک مستقل اور مفصل تصنیف کے طور پر شروع کی گئی ہے۔اس کی دو جلدیں (اب تو جلد اوّل مکمل اور جلد دوم کے دو نمبر شائع ہو چکے ہیں۔عرفانی ) شائع ہو چکی ہیں اور قابلِ دید ہیں۔“ (سیرت المہدی جلد اوّل روایت نمبر ۱۸۱ صفحه ۱۹۴،۱۹۳ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) میری اس تالیف کو بعض عیسائی مؤلفین نے بھی بطور اساس قرار دیا ہے اور مجھے خوشی ہے کہ میری یہ خدمت پسند کی گئی۔وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِك اس قدر تمہیدی بیان سے میرا مقصد یہ ہے کہ یہ تالیف نہایت اہم اور ضروری ہے اور جماعت کا فرض ہے کہ وہ اپنے محسن کے حالات زندگی کو اس زمانہ میں جو قلم اور اشاعت کا عہد ہے مکمل کرے میں یہ یقین رکھتا ہوں کہ اس رَجُلِ عظیم کے متعدد سوانح حیات اور مختلف زبانوں میں شائع ہوں گے اور ہونے چاہئیں لیکن ہم اپنی زبان میں بھی تو ایک مکمل تالیف بطور اساس شائع کر دیں۔میں اپنی ہمت اور استطاعت کے موافق اس سلسلہ میں کام کرتا آیا ہوں اور کرتا رہوں گا انشاء اللہ تعالیٰ جب تک ہاتھ میں قلم پکڑنے کی طاقت ہے کہا جا سکتا ہے کہ تم لکھ کر مکمل کر دو طباعت اپنے وقت پر ہو سکے گی۔مگر میں اپنی عادت سے مجبور ہوں۔میرا طریق تالیف جدا گانہ ہے۔میں جب تک وہ ساتھ ساتھ شائع نہ ہو لکھ نہیں سکتا۔اس میں شک نہیں بعض تالیفات میں نے ایسی بھی کی ہیں کہ ان کو مکمل لکھ دیا مگر وہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے ارشاد کے ماتحت۔ان میں سے ایک تو غایت المرام مصنفہ قاضی سلیمان صاحب پٹیالوی کا جواب ہے اور فوز الکبیر کا اردو ترجمہ اور بخاری کے کچھ پاروں کا ترجمہ اور نوٹس۔صرف ونحو پر بھی ایک رسالہ مکمل لکھا تھا۔جن کے متعلق میں نہیں کہہ سکتا کہ ان مسودات اور نہایت قیمتی مخطوطات اور میری لائبریری کا کیا حشر ہوا۔بہر حال میں تو اس وقت ایک جوش اپنے قلب میں پاتا ہوں جبکہ اس کی طباعت و اشاعت کا