حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 263 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 263

حیات احمد ۲۶۳ جلد دوم حصہ سوم سے نوازے اور ان کو جوش خدمت دین سے بہرہ اندوز کرے۔یہ ذکر ضمناً آ گیا اور میں نے اس کو ناسپاسی یقین کیا کہ ان کی اس خدمت کا اظہار نہ کروں تا کہ اس کتاب کے پڑھنے والے ان کے لئے دعائے خیر کریں۔اس کے بعد یہ سلسلہ بند ہو گیا اور آج میں کہتا ہوں۔مدتے ایں مثنوی تاخیر شد اب جبکہ میں اپنی عمر کے ۷۸ سال پورے کر چکا اور چراغ سحری بن رہا ہوں۔قوت عمل کا تیل ختم ہو رہا ہے پھر دل میں جوش پیدا ہوا کہ پھر اُسی ڈگر پر چلوں، کیا عجب کہ منزل مقصود پر پہنچ جاؤں۔وَمَا ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ بِعَزِيز - مجھے اس کتاب کے متعلق کچھ کہنا نہیں ہے کہ کیسی ہے یا کیسی ہوگی؟ جس محبوب کا ذکر ہے وہ اپنے کمالات حسن سیرت اور بطلِ اسلام کے کارناموں کی حیثیت سے نہایت عظیم الشان ہے اس لئے اس کا ذکر کسی رنگ میں بھی ہو وہ اپنے اندر ایک خوبصورتی اور دلچسپی رکھتا ہے تاہم حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۱۹۲۷ء کے سالانہ جلسہ پر اس کے متعلق فرمایا کہ یہ کتاب ہر احمدی کے گھر میں خواندہ ہو یا نا خواندہ ہونی چاہیئے“ اب ہر احمدی اپنے نفس کا خود محاسبہ کر لے کہ اس نے اس پر کہاں تک عمل کیا ہے اور کیا اس کا گھر اس امانت کا امین ہے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے اپنی تالیف سیرت المہدی کی روایت نمبر ۱۷۷صفحہ ۱۹۳ میں لکھا حیات النبی مصنفہ شیخ یعقوب علی صاحب تراب عرفانی۔شیخ صاحب موصوف پرانے احمدی ہیں اور سلسلہ کے خاص آدمیوں میں سے ہیں مہاجر ہیں اور کئی سال حضرت کی صحبت اٹھائی ہے۔ان کے اخبار الحکم میں سلسلہ کی تاریخ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سوانح اور سیرت کا کافی ذخیرہ موجود ہے۔شیخ صاحب کو شروع ہی سے تاریخ سلسلہ کے محفوظ اور جمع کرنے کا شوق ا ترجمہ:۔ایک لمبے عرصہ تک اس مثنوی میں تاخیر ہوگئی۔