حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 262 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 262

حیات احمد ۲۶۲ جلد دوم حصہ سوم شناخت اور آپ کے حضور رہنے کی سعادت کی صورت میں ہوئی ) جو فرض مجھ پر عائد کیا تھا میں نے بھی تو اُسے ادا نہ کیا۔اگر چہ الحکم کے ذریعے حضور کے کلمات طیبات اور سلسلہ کی تاریخ کے اہم واقعات محفوظ ہو سکے مگر خود حضرت اقدس کے حالات زندگی کی اشاعت کی تکمیل سے میں بھی قاصر رہا۔میں نے حضرت کے مرفوع ہونے پر اس سلسلہ کو شروع کیا لیکن میری کسی پنہانی معصیت نے مجھے اس قابل نہ ہونے دیا کہ میں اس کی تکمیل کر دیتا۔اگر چہ اللہ تعالیٰ کے اس فضل کے لئے بھی میرا سر جھکا ہوا ہے کہ اس سلسلہ میں بھی بہت کچھ کام کرنے کی توفیق ملی مثلاً آپ کی زندگی کے ابتدائی چالیس سالوں کا تذکرہ میں مکمل کر سکا جو سب سے زیادہ مشکل کام تھا کیونکہ اس عہد کے حالات تحریروں سے تو مل نہ سکتے تھے اس کے لئے ایسے لوگوں سے حالات جمع کرنا تھا جو آپ کے بچپن سے لے کر چالیس سالہ عمر تک کے پورے واقف ہوں۔اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ میں اس مرحلہ کو طے کر چکا۔آپ کے مکتوبات کا بہت بڑا ذخیرہ جمع کر کے اس کی اشاعت بھی ہوسکی۔آپ کی سیرت کے سلسلہ میں بھی تین مجلدات شائع ہو چکے۔یہ معمولی کام نہیں اور میں اسے اپنی کسی قابلیت کا نتیجہ نہیں سمجھتا بلکہ میں تحدیث نعمت کے طور پر اس کا ذکر کر رہا ہوں اور سوانح حیات میں بھی ۱۸۸۳ء تک کے واقعات زندگی لکھ چکا۔آخری نمبر سوانح حیات کا جو جلد دوم کا دوسرا نمبر تھا ۱۹ مارچ ۱۹۳۴ء کو حضرت نواب چوہدری محمد الدین صاحب رضی اللہ عنہ کی توجہ سے شائع ہوا کہ انہوں نے اس کی اشاعت کے اخراجات کا بڑا حصہ دیا۔مجھے یقین تھا کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہ سکتا تو حضرت نواب مرحوم کا ہاتھ کھلا ہی رہتا۔ان کی ساری خوشیوں کا مرکز نیک کام کرنے کے لئے آمادگی تھا۔مجھے صدمہ ہے کہ میں وطن سے دور تھا۔اور حالات اتنے نا موافق تھے کہ میں ان کے جنازے کو کندھا تک نہ دے سکا۔لیکن میں نے ان کی ترقی مدارج کے لئے دعائیں کی ہیں اور اس وقت بھی کر رہا ہوں۔اللہ ان کے درجات اپنے قرب میں بلند کرے اور ان کی اولا دکو ہر قسم کے دینی اور دنیوی فضلوں