حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 261
حیات احمد ۲۶۱ جلد دوم حصہ سوم بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ حیات احمد علیہ الصلوۃ والسلام مدتے اس مثنوی تا خیر شد (جلد دوم نمبر سوم)۔(تمہیدی نوٹ ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وصال پر چالیس سال سے زیادہ گزر گئے اور وہ سلسلہ جو اس وقت ابتدائی حالت میں تھا آج اللہ تعالیٰ کے فضل و رحم سے اس کے وعدوں کے موافق اکناف عالم میں پھیل گیا اور پھیلتا جا رہا ہے۔دنیا کے تاریک حصوں میں آفتاب صداقت طلوع ہو چکا ہے اور وہ وقت قریب ہے کہ نصف النہار پر پہنچ جاوے۔لیکن میں ایک دردمند دل کے ساتھ اس امر کا اظہار کرتا ہوں کہ اس عرصہ میں ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سوانح حیات کی تکمیل نہ کر سکے۔اس کے اسباب و علل پر بحث کرنا بیکار ہے اور اس کی تفصیلات میں جانا بے سود۔مجھے اپنی کمزوری اور سستی کا اعتراف کرنا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ جماعت کا کام تھا ایک ایسی جماعت کا جو منظم ہے جس کی تنظیم مختلف شعبوں پر مشتمل ہے۔جن میں ایک شعبہ تالیف و تصنیف بھی ہے۔مجھے معلوم نہیں کہ اس صیغہ میں کس قدر دوسری اہم اور ضروری تالیفات زیر نظر تھیں کہ وہ اس طرف توجہ نہ کر سکا۔لیکن با ایں میں خود اپنے آپ کو اس کا ذمہ دار سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے اس فضل و نعمت نے (جو مجھ پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ترجمہ :۔ایک لمبے عرصہ تک اس مثنوی میں تاخیر ہوگئی۔