حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 245
حیات احمد ۲۴۵ جلد دوم حصہ دوم اور بعض خلاف معلوم ہوں۔اس لئے مناسب ہے کہ آپ اس محبت کو خدا سے بھی چاہیں اور کسی نئے امر کے پیش آنے میں مضطرب نہ ہوں“۔آخر میں پھر فرمایا:۔"آپ کی حالت قویہ پر بھی امید کی جاتی ہے کہ آپ ہر ایک انقباض پر غالب آویں۔(مکتوبات احمد جلد ا صفحه ۵۲۴، ۵۲۵ مطبوعه ۲۰۰۸ء) یہ زمانہ تھا جبکہ میر صاحب حضرت کے اول المعاونین کے رنگ میں کام کر رہے تھے اور یہ پہلا شخص تھا جس نے اور بہانہ میں سب سے پہلے حضرت کی طرف رجوع کیا اور پہلا شخص تھا جو لود ہانہ سے قادیان حاضر ہوا۔وہ برابر اپنے اخلاص میں ترقی کرتا چلا گیا یہ انکشافات حضرت پر ۱۸۸۳ء میں اور پھر ۱۸۸۴ء میں ہوئے اور اس کی حالت میں کوئی تبدیلی واقع نہ ہوئی یہاں تک کہ پسر موعود کی پیشگوئی پر ایک طوفان بے تمیزی برپا کیا گیا اور پھر ہوشیار پور کے نکاح کے متعلق پیشگوئی پر بھی اخبارات خصوصاً نو را فشاں وغیرہ میں شور مچایا گیا اور ہنسی کی گئی۔لیکن میر عباس علی صاحب کو ابتلا نہ آیا۔بیعت کا اعلان ہوا اور میر صاحب نے بڑے اخلاص کے ساتھ پہلے ہی دن بیعت کی۔بلکہ ایک مرتبہ اس کشف کے بعد حضرت اقدس سے عرض بھی کیا کہ مجھے اس کشف سے جو میری نسبت ہوا تعجب ہوا۔کیونکہ میں تو آپ کے لئے مرنے کو طیار ہوں۔حضرت اقدس نے جواب دیا کہ جو کچھ آپ کے لئے مقدر ہے پورا ہوگا۔اس پر آٹھ سال گزر گئے جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مسیح موعود کا دعویٰ کیا تو ان کو کچھ انقباض شروع ہوا لیکن اس پر بھی وہ کھلم کھلا مخالفت یا ارتداد پر آمادہ نہ ہوئے لیکن لودیا نہ کے مباحثہ کے ایام میں کچھ دنوں تک مخالفین کی صحبت میں رہے اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ نوشتہ تقدیر ظاہر ہو گیا اور پیشگوئی پوری ہوگئی وہ صریح طور پر بگڑ گئے اور ایسے بگڑے کہ وہ یقین دل کا اور وہ نورانیت چہرہ کی سب جاتی رہی اور ارتداد کی تاریکی ظاہر ہو گئی اور پھر کھلم کھلا مقابلہ پر آگئے یہاں تک کہ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقابلہ میں رسول نمائی کا دعویٰ کیا اور مولوی محمد حسین بٹالوی کو جو اس وقت شدید مخالف ہو چکا تھا ایک کھلونا ہاتھ آ گیا۔حضرت اقدس