حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 238 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 238

حیات احمد ۲۳۸ جلد دوم حصہ دوم جنگل میں دعا کرنے کا اچھا موقع ہوتا ہے اور وہ قبولیت کو جلد حاصل کرتی ہے۔اس خیال سے آپ نہر کی طرف جو قادیان سے تین میل کے فاصلہ پر بٹالہ کی طرف ہے تشریف لے گئے اور ایک خلوت کا مقام تجویز کر کے آپ نے وہاں دعا کی۔۳/ جنوری ۱۸۸۴ء کو الہام ہوا۔بحسن قبولی دعا بنگر چہ زُود دعا قبول سے کنم لے جنوری ۱۸۸۴ء کو الہام ہوا۔اور ۶ / جنوری ۱۸۸۴ء کولود ہانہ سے میر عباس علی صاحب کا منی آرڈر وصول ہو گیا چنانچہ حضرت اقدس نے ۷ جنوری ۱۸۸۴ء کو جو خط میر صاحب کو لکھا اس میں صفائی کے ساتھ اس کا ذکر فرمایا تے حضرت کا مشرب سلوک اور اس کی تائید میں کشف انہیں ایام اوائل جنوری ۱۸۸۴ء میں آپ نے ایک کشف یا رویا دیکھا جس میں آپ کی روحانی تربیت اور مشرب کی حقیقت بیان کی گئی ہے۔حضرت نے کتاب البریہ میں اپنے حالات لکھتے ہوئے ایک خاص امر کا تذکرہ فرمایا ہے جو آپ کی روحانی تربیت اور سلوک کے متعلق ہے۔آپ فرماتے ہیں۔ایک طرف ان کا (حضرت والد صاحب) دنیا سے اٹھایا جانا تھا اور ایک طرف بڑے زور شور سے سلسلہ مکالمات الہیہ کا مجھ سے شروع ہوا میں کچھ بیان نہیں کر سکتا کہ میرا کونسا عمل تھا جس کی وجہ سے یہ عنایت الہی شامل حال ہوئی۔صرف اپنے اندر یہ احساس کرتا ہوں کہ فطرتا میرے دل لے ترجمہ:۔دیکھ میں تیری دعاؤں کو کیسے جلد قبول کرتا ہوں۔ے حاشیہ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس واقعہ کو اپنے نشانات کے ذیل میں یوں تحریر فرمایا ہے کہ ایک دفعہ ہمیں اتفاقاً پچاس روپیہ کی ضرورت پیش آئی اور جیسا کہ اہل فقر اور تو کل پر کبھی کبھی ایسی حالت گزرتی ہے اس وقت ہمارے پاس کچھ نہ تھا سو جب ہم صبح کے وقت سیر کے واسطے گئے تو اس ضرورت کے خیال نے ہم کو یہ جوش دیا کہ اس جنگل میں دعا کریں پس ہم نے ایک پوشیدہ جگہ میں جا کر اس نہر کے کنارے پر دعا کی جو قادیان سے تین میل کے فاصلہ پر بٹالہ کی