حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 239
حیات احمد ۲۳۹ جلد دوم حصہ دوم کو خدا تعالیٰ کی طرف وفاداری کے ساتھ ایک کشش ہے جو کسی چیز کے روکنے سے نہیں رک سکتی سو یہ اسی کی عنایت ہے۔میں نے کبھی ریاضات شاقہ بھی نہیں کیں اور نہ زمانہ حال کے بعض صوفیوں کی طرح مجاہدات شدیدہ میں اپنے نفس کو ڈالا اور نہ گوشہ گزینی کے التزام سے کوئی چلہ کشی کی اور نہ خلاف سنت کوئی ایسا عمل رہبانیت کیا جس پر خدا تعالیٰ کے کلام کو اعتراض ہو بلکہ میں ہمیشہ ایسے فقیروں اور بدعت شعار لوگوں سے بیزار رہا جو انواع و اقسام کے بدعات میں مبتلا ہیں۔“ ( کتاب البریہ صفحہ ۱۶۴،۱۶۳ بقیہ حاشیہ۔روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۱۹۵ تا ۱۹۷) ایسا ہی متعدد مرتبہ آپ نے اس حقیقت کا انکشاف فرمایا ہے کہ آپ کی تربیت روحانی کا رنگ دوسرا ہے جو معروف صوفیوں کے طریقہ سے بالکل نرالا ہے۔آپ کے اس مشرب کی حقیقت خدا تعالیٰ نے ایک رؤیا کے ذریعہ ظاہر فرمائی جس کے بیان کرنے کے لئے مجھے اس کی صراحت کی ضرورت پیش آئی۔حضرت شروع سے اس امر کو بیان کرتے رہے کہ آپ کا طریقہ بالکل منہاج نبوۃ پر ہے گو اس کو دوسرے الفاظ میں اور کبھی صراحة ادا کرتے رہے ہوں چنا نچہ اس کشف کو لکھتے وقت جو آپ نے کے جنوری ۱۸۸۴ء مطابق ۷ ربیع الاول ۱۳۰۱ھ کو میر عباس علی صاحب کو تحریر فرمایا۔بقیہ حاشیہ:۔طرف واقع ہے جب ہم دعا کر چکے تو دعا کے ساتھ ہی ایک الہام ہوا جس کا ترجمہ یہ ہے دیکھ میں تیری دعاؤں کو کیسے جلد قبول کرتا ہوں تب ہم خوش ہو کر قادیان کی طرف واپس آئے اور بازار کا رخ کیا تاکہ ڈاکخانہ سے دریافت کریں کہ آج ہمارے نام کچھ روپیہ آیا ہے یا نہیں چنانچہ ہمیں ایک خط ملا جس میں لکھا تھا کہ پچاس روپیہ لد ہیانہ سے کسی نے روانہ کئے ہیں اور غالبا وہ روپیہ اُسی دن یا دوسرے دن ہمیں مل گیا۔“ (نزول المسیح صفحه ۲۳۴۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۶۱۲ ) مکتوب اسمی عباس علی صاحب میں اصل الہام جو میں نے متن میں لکھ دیا ہے تحریر فرمایا ہے اور الہام کی تاریخ ۳/ جنوری ۱۸۸۴ ء اور اس کے پورا ہونے کی تاریخ ۶ جنوری ۱۸۸۴ء ہے گویا اسی روز روپیہ وہاں سے روانہ ہو چکا تھا۔(عرفانی )