حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 237
حیات احمد ۲۳۷ جلد دوم حصہ دوم سے معلوم ہوتا ہے کہ دوران طباعت میں بھی اگر کوئی اعتراض کسی اخبار یا رسالہ میں وہ عیسائیوں کا ہو یا آریوں اور برہموؤں کا نظر سے گزرا تو آپ نے اس کے ازالہ کے لئے ایسا علمی حملہ کیا کہ دشمن کا کچھ باقی نہیں رہنے دیا۔چنانچہ پادری عمادالدین پانی پتی کے اعتراضات (جو اس نے بسم اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ پر کئے تھے ) کا جواب دیا۔یا پادری ٹھا کر داس کی عدم ضرورت قرآن پر آپ نے بحث فرمائی یا پنڈت دیانند اور پنڈت شونرائن اگنی ہوتری کے اعتراضات سامنے آئے تو سب کا قلع قمع کر دیا۔اس وقت کا نظارہ قابل دید ہے کہ یہ پہلوان حضرت رب جلیل چاروں طرف سے دشمنانِ اسلام میں گھرا ہوا ہے اور ہر شخص کے حملہ کا جواب ایسی قوت اور دلیری کے ساتھ دیتا ہے کہ ان کے چھکے چھوٹ جاتے ہیں اور وہ میدان سے بھاگ جاتے ہیں واقعات شہادت دیتے ہیں۔چه ہیبت ها بدادند این جوان را که ناید کس بمیدان محمد * مالی مشکلات اور قبول دعا ایک طرف یہ حملے اور ان کا دفاع اور دوسری طرف براہین احمدیہ کی طباعت کے سلسلہ میں مالی مشکلات۔لیکن خدا تعالیٰ ہر میدان میں آپ کی مدد فرماتا ہے اور جیسا کہ اس نے وعدہ فرمایا تھا آپ کی دعاؤں کو سنتا اور غیب سے ایسے آدمی پیدا کر دیتا ہے جو مدد کے لئے آمادہ ہو جاتے ہیں گویا آسمان سے فرشتے ان پر وحی کرتے ہیں۔اور جو شخص ان حالات کا مطالعہ کرے گا اسے تسلیم کرنا پڑے گا کہ یہ انسانی تجویز اور دانش کا کام نہیں بلکہ سراسر ربانی نصرت کام کرتی ہے۔الہام الہی ان مشکلات کے ضمن میں پچاس روپیہ کی سخت ضرورت پیش آئی اور بظاہر اس کے لئے کوئی سامان نہ تھا یہ جنوری کی پہلی یا دوسری ہی تاریخ کا واقعہ ہے بعض لوگوں کے سخت تقاضے تھے آپ کے پاس بجز دعا کے کوئی حربہ تھا نہیں اور آپ اس بات پر بھی اپنے تجربہ کی بنا پر یقین رکھتے تھے کہ ترجمہ:۔اس جوان کو کس قدر رعب دیا گیا ہے کہ محمد کے میدان میں کوئی بھی مقابلہ میں نہیں آتا۔