حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 236
حیات احمد ۲۳۶ جلد دوم حصہ دوم پیدا نہ ہوئے تھے انہیں ایام میں خدا تعالیٰ مخلصین کی اس جماعت کو تیار کر رہا تھا۔جیسا کہ منشی۔ظفر احمد صاحب کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو انہیں دنوں بڑی عقیدت پیدا ہو گئی تھی جب حاجی صاحب سراوہ گئے تھے اور منشی صاحب براہین سنایا کرتے تھے لیکن ۱۹۴۱ بکرمی (۱۸۸۴ء) وہ کپورتھلہ آگئے تو براہین کا باقاعدہ درس انہوں نے شروع کر دیا اور یہی جماعت صالحین پیدا ہونے کا ذریعہ ہو گیا ادھر ۱۸۸۴ء کے آخر تک حاجی صاحب نے قریباً قطع تعلق کر لیا اور خدا کے فضل نے ان کی جگہ مخلصین کی ایسی جماعت پیدا کر دی جو اپنے اخلاص و وفا میں بے نظیر ثابت ہوئی۔اب میں حاجی صاحب کے ذکر کو چھوڑ کر ۱۸۸۴ء کے واقعات کو ایسی ترتیب اور اسلوب سے بیان کرنے کی خدا کے فضل سے کوشش کرتا ہوں کہ جدا گانہ ڈائری یا الہامات و کشوف کے الگ باب قائم کرنے کی ضرورت نہ رہے اور اس مقصد کے لئے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ ہر مہینے کے واقعات کو جمع کرنے کی کوشش کروں اور اگر کوئی واقعہ ایسا ہے کہ وہ کئی ماہ تک برابر چلا گیا ہے تو اس کو یکجائی طور پر بیان کر دیا جاوے۔وبالله التوفيق۔جنوری و فروری ۱۸۸۴ء ۱۸۸۴ء کا آغاز جہاں بہت سی برکات اور فضلوں کے ظہور اور آئندہ کی نعمتوں کے وعدوں پر مشتمل الہامات سے ہوا۔اس کے ساتھ ہی مخالفت کے ایک بے پناہ طوفان میں ایک نئی تحریک پیدا ہو رہی تھی۔جوں جوں قبولیت بڑھ رہی تھی ویسے ہی مخالفین حسد سے جل کر مشتعل ہو رہے تھے۔براہین کی چوتھی جلد طبع ہو رہی تھی اور حضرت کو اس کی طباعت کا خیال تھا آپ چاہتے تھے کہ جلد سے جلد وہ شائع ہو جاوے اس کے لئے بار ہا پا پیادہ بھی تشریف لے جاتے تھے اس لئے کہ آپ ہی مسودہ پر نظر ثانی فرماتے ، کا پیاں پڑھتے اور پھر پروف دیکھتے۔مطبع والوں کی بے اعتنائیاں اور وعدہ خلافیاں الگ موجب تکلیف ہوتی تھیں۔آپ اس وقت اسی جہاد عظیم میں مصروف تھے منکرین اسلام کے اعتراضات کو الگ مد نظر رکھتے تھے یہ امر براہین احمدیہ کے حواشی کے پڑھنے