حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 235
حیات احمد ۲۳۵ جلد دوم حصہ دوم آخر حاجی صاحب براہین کے متعلق اعتراضات کرنے سے تو باز آ گئے اور انہوں نے حضرت سے اپنے دعوئی کے متعلق سوالات کئے جن کا جواب او پر دیا گیا ہے لیکن اس کے بعد ان کے تعلقات کم ہوتے گئے اور خدا تعالیٰ نے ان کی جگہ ایک نہایت مضبوط اور مخلصین کی جماعت حضرت کو دے دی اور یہ کپورتھلہ کی جماعت ہے جن میں خود ان کے بعض عزیز اور رشتہ دار بھی تھے اور ہیں۔عجیب بات یہ ہے کہ ابتدء جبکہ حضرت نے کوئی دعوی نہ کیا تھا براہین ہی کو دیکھ کر حاجی صاحب خود لوگوں پر ظاہر کیا کرتے تھے کہ یہ مجدد ہیں چنانچہ منشی ظفر احمد صاحب جو خدا تعالیٰ کے فضل سے اب تک زندہ ہیں اور خدا تعالیٰ انہیں اور بھی لمبی عمر عطا کرے فرماتے ہیں کہ حاجی صاحب ۳۸ یا ۳۹ہ بکرمی میں قصبہ سراوہ ضلع میرٹھ میں تشریف لے گئے تھے اُس وقت اُن کے پاس براہین احمدیہ تھی وہ حاجی صاحب سنایا کرتے تھے اور بہت سے آدمی جمع ہو جایا کرتے تھے مختلف لوگوں اور مجھ سے بھی سنا کرتے تھے اور حاجی صاحب لوگوں پر یہ ظاہر فرماتے تھے کہ یہ مجدد ہیں۔حاجی صاحب کو جو مصیبت پیش آئی وہ کسی مخفی مصیبت از قسم کبر وغیرہ یا اعتراض کے نتیجہ میں آئی جو براہین کے التواء پر کیا تھا۔جن ایام میں اُن کے اندر مخالفت یا انکار کے کیڑے ابھی بقیہ حاشیہ:۔خطوط میں نے اپنے ہاتھ سے لکھ کر مختلف مقامات میں روانہ کئے۔ایک نظمند اندازہ کر سکتا ہے کہ وہ جد و جہد اور محنت اور عرق ریزی کے کیا کچھ مصارف ان کارروائیوں پر ہوئے ہوں گے۔ہر ایک کا معاملہ خدا کے ساتھ ہے۔بدظن اور نیک باطن کو خوب جانتا ہے وَإِنْ يَكُ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُهُ - اور اگر بقول آپ کے میں خراب اندروں ہوں اور کعبہ کی بجائے بتخانہ کو جا رہا ہوں تو وہ عالم الغیب ہے آپ سے بہتر مجھے جانتا ہو گا۔لیکن اگر حال ایسا نہیں ہے تو میں نہیں سمجھ سکتا کہ آپ اس بدظنی کا کیا جواب دیں گے۔اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُوَّادَ كُلُّ أُولَئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا - وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى۔( ۲۳ / دسمبر ۱۸۸۴ء۔مکتوبات احمد جلد ا صفحه ۳۹۵،۳۹۴ مطبوعہ ۲۰۰۸ء)