حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 234
حیات احمد ۲۳۴ جلد دوم حصہ دوم حکومت و امارت کا بھی ایک نشہ تھا حضرت کو انہوں نے ایک سخت خط لکھا جس میں براہین احمدیہ کے التوائے اشاعت کی وجہ سے وعدہ شکنی وغیرہ کے الزامات لگائے گئے مگر حضرت نے ان کے مکتوب کو تو حوصلہ اور برداشت سے پڑھا لیکن خیانت اور بددیانتی کا الزام چونکہ محض اتہام تھا۔آپ نے اس کا نہایت دندان شکن الجواب ایسے رنگ میں دیا جو صرف خدا تعالیٰ کے مامورین و مرسلین کا خاصہ ہے۔لے حاشیہ۔مخدومی مکرمی اخویم حاجی صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔بعد سلام مسنون۔آج مدت کے بعد عنایت نامہ پہنچا۔آپ نے جس قدر اپنے عنایت نامے میں اس احقر عباداللہ کی نسبت اپنے بزرگانہ ارشادات سے بدنیتی۔ناراستی اور خراب باطنی اور وعدہ شکنی اور انحراف از کعبہ حقیقت وغیرہ وغیرہ الفاظ استعمال کئے ہیں۔میں ان سے ناراض نہیں ہوسکتا۔کیونکہ اول تو بع هر چه از دوست می رسد نیکوس کے ہر ماسوا اس کے اگر خدا وند کریم و رحیم ایسا ہی برا انجام کرے جیسا کہ آپ نے سمجھا ہے تو میں اس سے بدتر ہوں اور درشت تر الفاظ کا مستحق ہوں۔رہی یہ بات کہ میں نے آپ سے کوئی وعدہ خلافی کی ہے یا میں کسی عہد شکنی کا مرتکب ہوا ہوں تو اس وہم کا جواب زیادہ تر توجہ سے خود آپ ہی معلوم کر سکتے ہیں جس روز چھپے ہوئے پر دے کھلیں گے اور جس روز حُصلَ مَا فِی الصُّدُورِ کا عملدرآمد ہوگا اور بہت سے بدظن اپنی جانوں کو رویا کریں گے۔اس روز کا اندیشہ ہر ایک جلد باز کو لازم ہے۔یہ سچ ہے کہ براہین احمدیہ کی طبع میں میری امید اور اندازے سے زیادہ تو قف ہو گیا مگر اس توقف کا نام عہد شکنی نہیں۔میں فی الحقیقت مامور ہوں۔اور درمیانی کارروائیاں جو الہی مصلحت نے پیش کر دیں دراصل وہی تو قف کا موجب ہو گئیں۔جن لوگوں کو دین کی غمخواری نہیں۔وہ کیا جانتے ہیں کہ اس عرصہ میں کیا کیا عمدہ کام اس براہین کی تکمیل کے لئے ہوئے اور خدا تعالیٰ نے اتمام حجت کے لئے کیا کیا سامان میسر کئے۔آپ نے سنا ہو گا کہ قرآن شریف کئی برسوں میں نازل ہوا تھا۔کیا وہ ایک دن نازل نہیں ہوسکتا تھا؟ آپ کو اگر معلوم نہ ہو تو کسی باخبر سے دریافت کر سکتے ہیں کہ اس عرصہ میں یہ عاجز بیکار رہا یا بڑا بھاری سامان اتمام حجت کا جمع کرتا رہا۔تمیں ہزار سے زیادہ اشتہارات اردو انگریزی میں تقسیم ہوئے ہیں ہزار سے زیادہ ترجمہ۔خدا جو بھی سلوک کرے گا بہتر ہی کرے گا۔