حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 233 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 233

حیات احمد ۲۳۳ جلد دوم حصہ دوم بخشی ہے کہ جو حضرت مجد د صاحب سے بھی بہتر ہیں اور مراتب اولیا ء سے بڑھ کر نبیوں سے مشابہت دی ہے سو یہ عاجز مجدد صاحب کا پیرو نہیں ہے۔بلکہ براہ راست اپنے نبی کریم کا پیرو ہے اور جیسا سمجھا گیا ہے بدلی یقین سمجھتا ہے کہ ان سے اور ایسا ہی ان بہتوں سے کہ جو گزر چکے ہیں افضل ہے۔وَذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَّشَآءِ۔ے۔خدا تعالیٰ کے کلام میں مجھ سے یہ محاورہ نہیں ہے مجھ کو حضرت خدا وند کریم محض اپنے فضل سے صدیق کے لفظ سے یاد کرتا ہے اور نیز دوسرے ایسے لفظوں سے جن کے سننے کی آپ کو برداشت نہیں ہوگی اور حضرت خداوند کریم نے مجھ کو اس خطاب سے معز فرما کر إِنِّي فَضَّلْتُكَ عَلَى العَالَمِينَ - قُلُ أُرْسِلْتُ إِلَيْكُمْ أَجْمَعِينَ - یہ بات بخوبی کھول دی ہے کہ اس ناکارہ کو تمام عالمین یعنے تمام روئے زمین کے باشندوں پر فضیلت بخشی گئی ہے پس سوال ہفتم کے جواب میں اسی قدر کافی ہے۔۔اس ناکارہ کے والد مرحوم کا نام غلام مرتضیٰ تھا وہی جو حکیم حاذق تھے اور دنیوی وضع پر اس ملک کے گردو نواح میں مشہور بھی تھے۔وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى ( ۳۰ دسمبر ۱۸۸۴ء۔مکتوبات احمد جلد اصفحه ۳۹۶ تا ۳۹۸ مطبوعه ۲۰۰۸ء) اس سال کے واقعات کے لحاظ سے شائد میں اسے سب سے پیچھے ذکر کرتا مگر میں نے ایک خاص مقصد سے اسے مقدم کر لیا کہ دعوئی مجددیت کا کھلا کھلا اعلان آپ نے اسی سال ۱۸۸۴ء میں کیا اور جب لوگوں نے مختلف قسم کے سوالات کئے تو آپ نے اپنے مقام اور منصب کا بھی اظہار کر دیا جیسا کہ اس مکتوب سے ظاہر ہے۔حاجی ولی اللہ صاحب کو ابتداء حضرت اقدس سے کچھ اخلاص تھا اور وہ براہین احمدیہ کے خریدار بھی تھے لیکن جب براہین کی چوتھی جلد کی اشاعت کے ساتھ اس کی آئندہ اشاعت ایک غیر معین عرصہ کے لئے معرض التوا میں آئی تو جن لوگوں کو شکوک وشبہات شروع ہوئے ان میں سے ایک حاجی ولی اللہ صاحب بھی تھے وہ ریاست کپور تھلہ میں ایک معزز عہدہ دار تھے اور اپنی