حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 227 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 227

حیات احمد ۲۲۷ جلد دوم حصہ دوم ایک حیرت انگیز انقلاب آپ کی زندگی میں واقع ہوا۔اس وقت تک آپ یہ تو جانتے تھے اور خدا تعالیٰ کی متواتر وحی وارشادات کی بنا پر جانتے تھے اور بعض دوستوں کو بھی اس سے مطلع کر چکے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک خاص مقصد کے لئے مامور فرمایا ہے اس ماموریت کی شان کے متعلق بھی آپ نے ان مکتوبات میں جو بعض دوستوں کے نام لکھے صاف صاف بتایا کہ وہ علی منہاج نبوۃ ہے اور جب بھی بعض مشکلات اور مخالفین کی پیدا کردہ روکوں کا ذکر آب تو آپ نے اسی رنگ میں ان کی تصریح کی کہ انبیاء علیہم السلام کو اس طرح پر مشکلات پیش آتی ہیں۔غرض اپنی ماموریت کے شعور اور اعلان کے ساتھ آپ اتنا ہی سمجھتے تھے کہ تائید دین کے لئے آپ کتاب براہین احمدیہ لکھ رہے ہیں لیکن جبکہ ابھی چوتھی جلد مطبع ہی میں تھی اور یہ ۱۸۸۴ ء ہی کا واقعہ ہے تو خود براہین احمدیہ کے متعلق ہی ایک نیا امر پیش آگیا ابتدا میں جو خیال تھا وہ جاتا رہا چنانچہ آپ نے چوتھی جلد کے آخر میں ”ہم اور ہماری کتاب“ کے عنوان سے لکھا کہ وو ابتدا میں جب یہ کتاب تالیف کی گئی تھی اس وقت اس کی کوئی اور صورت تھی پھر بعد اس کے قدرت الہیہ کی ناگہانی تجلی نے اس احقر عباد کو موسیٰ کی طرح ایک ایسے عالم سے خبر دی جس سے پہلے خبر نہ تھی یعنی یہ عاجز بھی حضرت ابن عمران کی طرح اپنے خیالات کی شب تاریک میں سفر کر رہا تھا کہ ایک دفعہ پردہ غیب سے اِنِّی أَنَا رَبُّكَ کی آواز آئی اور ایسے اسرار ظاہر ہوئے کہ جن تک عقل اور خیال کی رسائی نہ تھی۔سواب اس کتاب کا متولی اور مہتم ظاہر و باطناً حضرت رب العلمین ہے اور کچھ معلوم نہیں کہ کس اندازہ اور مقدار تک اس کو پہنچانے کا ارادہ ہے‘ الآخرہ اس اعلان کے بعد براہین احمدیہ کی طباعت و اشاعت کا کام بظاہر معرض التواء میں آ گیا اور سلسلہ تصانیف کا ایک دوسرا رنگ شروع ہو گیا۔