حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 226 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 226

حیات احمد ۲۲۶ جلد دوم حصہ دوم تمہارے ساتھ ہے اور وہ یقینا تمہاری مدد کرے گا۔اور نمبر 9 کا ترجمہ یہ ہے کہ خدا کے کلمات تبدیل نہیں ہو سکتے ہیں نمبر ہا کا ترجمہ ہے تمہیں امرتسر جانا ہوگا۔اور نمبرا کا کہ وہ ضلع پشاور میں رہتا ہے۔(میرا اپنا خیال ہے کہ یہ لیکھرام کے متعلق ہوا تھا وہ صوابی ضلع پشاور میں تھا جب وہ خط و کتابت کر رہا تھا) دوسرے فقرات عبرانی وغیرہ کے متعلق میر عباس علی صاحب یا کسی اور نے کچھ نہیں لکھا اپنے وقت پر ان کی حقیقت کھل جائے گی یا کھل چکی ہو گی کسی کی توجہ نہیں ہوئی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ بھی ایک صداقت کا نشان ہے کہ جو الہام یا وحی آپ کو ہوتی تھی اسے بیان کر دیتے اور اگر کسی کی حقیقت یا تشریح نہ معلوم ہوتی تو صاف طور پر یہ بھی لکھ دیتے اور اگر کوئی غیر زبان کا لفظ ہوتا تو اس کے مطلب اور مفہوم کو دریافت کرنے میں بھی مضائقہ نہ فرماتے تھے اور بلا تکلف اس زبان کے جاننے والے سے دریافت کرتے مگر اس کی حقیقت کو ہمیشہ اس وقت سے متعلق کرتے جب خدا تعالیٰ واقعات کی صراحت میں اسے ظاہر کرتا۔غرض اس قسم کی بشارات اور الہامات کے درمیان یہ سال گزر گیا اس سال میں کوئی دن ایسا نہیں گزرا کہ خدا تعالی کے تازہ بتازہ نشانات ظاہر نہ ہوئے ہوں۔میں اس کی تفصیل میں جانے کے بغیر پڑھنے والوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ نشانات کی تفصیل کے لئے حقیقۃ الوحی۔نزول امسیح۔اور خود براہین احمدیہ جلد چہارم کو پڑھیں۔۱۸۸۴ء کے واقعات ۱۸۸۴ء کا سال سلسلہ عالیہ احمدیہ کی تاریخ میں بہت بڑی اہمیت رکھتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کے ایک دور جدید کا سال ہے یوں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کا ہر نیا دن نئی برکات کو لے کر آتا تھا اور ایک بہت بڑے انقلاب کو قریب کر رہا تھا مگر ۱۸۸۴ء میں