حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 220
حیات احمد ۲۲۰ جلد دوم حصہ دوم ہوئی کہ میخ فولادی کی طرح دل کے اندر داخل ہو گئی۔اس سے یقیناً معلوم ہوا کہ خداوند کریم اُن سب دوستوں کو جو اس عاجز کے طریق پر قدم ماریں بہت سی برکتیں دے گا اور ان کو دوسرے طریقوں کے لوگوں پر غلبہ بخشے گا۔اور یہ غلبہ قیامت تک رہے گا اور اس عاجز کے بعد کوئی مقبول ایسا آنے والا نہیں کہ جو اس طریق کے مخالف قدم مارے اور جو مخالف قدم مارے گا اُس کو خدا تباہ کرے گا اور اُس کے سلسلہ کو پائیداری نہیں ہوگی یہ خدا کی طرف سے وعدہ ہے جو ہرگز تخلف نہیں کرے گا۔اور کفر کے لفظ سے اس جگہ شرعی کفر مراد نہیں بلکہ صرف انکار سے مراد ہے۔غرض یہ وہ سچا طریقہ ہے جس میں ٹھیک ٹھیک حضرت نبی کریم کے قدم پر قدم ہے اللَّهُمَّ صَلَّ عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّمْ مکتوبات احمد جلد اول صفحه ۵۳۴ مطبوعه ۲۰۰۸ء) (۸) اس کی تاریخ نزول تو حضور نے نہیں دی مگر ۲۱ جون ۱۸۸۳ء مطابق ۱۵/ شعبان ۱۳۰۰ھ کے مکتوب اسمی میر عباس علی صاحب میں تحریر فرمایا ہے کہ کئی دفعہ اس عاجز کو نہایت صراحت سے یہ الہام ہوا ہے کہ وید گمراہی سے بھرا ہوا ہے۔مکتوبات احمد جلد اوّل صفحه ۵۳۵ مطبوعه ۲۰۰۸ء) (۹) (۲۸ / اگست ۱۸۸۳ء) مکتوب اسمی میر عباس علی صاحب مورخه ۳۰ ر اگست ۱۸۸۳ء میں تحریر فرماتے ہیں کہ شاید پرسوں کے دن یعنی بروز سہ شنبہ مسجد کی طرف نظر کی گئی تو اس وقت خدا وند کریم کی طرف سے ایک اور فقرہ الہام ہوا اور وہ یہ ہے۔فِيْهِ بَرَكَاتٌ لِّلنَّاسِ 66 یعنی اس میں لوگوں کے لئے برکتیں ہیں۔“ مکتوبات احمد یہ جلد اصفحہ ۴۵۔مکتوبات احمد جلد اوّل صفحه ۵۵۵ مطبوعه ۲۰۰۸ء) (۱۰) (۶ ستمبر ۱۸۸۳ء روز پنجشنبه) خدا وند کریم نے عین ضرورت کے وقت میں اس عاجز