حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 221
حیات احمد ۲۲۱ جلد دوم حصہ دوم کی تسلی کے لئے اپنے کلام مبارک کے ذریعہ سے یہ بشارت دی کہ بست و یک روپیہ آنے والے ہیں چونکہ اس بشارت میں ایک عجیب بات یہ تھی کہ آنے والے روپیہ کی تعداد سے اطلاع دی گئی اور کسی خاص تعداد سے مطلع کرنا ذات غیب دان کا خاصہ ہے کسی اور کا کام نہیں ہے دوسری عجیب پر عجیب یہ بات تھی کہ یہ تعداد غیر معہود طرز پر تھی کیونکہ قیمت مقررہ کتاب سے اس تعداد کو کچھ تعلق نہیں پس انہیں عجائبات کی وجہ سے یہ الہام قبل از وقوع بعض آریوں کو بتلایا گیا پھر ۱۰ ستمبر ۱۸۳ء کو تاکیدی طور پر سہ بارہ الہام ہوا کہ بست و یک روپیہ آئے ہیں جس الہام سے سمجھا گیا کہ آج اس پیشگوئی کا ظہور ہو جائے گا چنانچہ ابھی الہام پر شائد تین منٹ سے کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا ہوگا کہ ایک شخص وزیر سنگھ نامی بیمار دار آیا اور اس نے آتے ہی ایک روپیہ نذر کیا ہر چند علاج معالجہ اس عاجز کا پیشہ نہیں اور اگر اتفاقاً کوئی بیمار آ جاوے تو اگر اس کی دو یاد ہو تو محض ثواب کی غرض سے للہ فی اللہ دی جاتی ہے لیکن وہ روپیہ اس سے لیا گیا کیونکہ فی الفور خیال آیا کہ اس پیشگوئی کی ایک جز ہے پھر بعد اس کے ڈاک خانہ میں ایک اپنا معتبر بھیجا گیا اس خیال سے شائد دوسری جز بذریعہ ڈاک خانہ پوری ہو ڈاک خانہ سے ڈاک منشی نے جو ایک ہندو ہے جواب میں یہ کہا میرے پاس صرف ایک منی آرڈر پانچ روپے کا جس کے ساتھ ایک کارڈ بھی نتھی ہے ڈیرہ غازی خان سے آیا ہے سو ابھی تک میرے پاس روپیہ موجود نہیں جب آئے گا تو دوں گا۔اس خبر کے سننے سے سخت حیرانی ہوئی اور وہ اضطراب پیش آیا جو بیان نہیں ہو سکتا چنانچہ یہ عاجز اسی تردد میں سر بزا نو تھا اور اس تصور میں تھا کہ پانچ اور ایک مل کر چھ ہوئے اب اکیس کیونکر ہوں گے یا الہی یہ کیا ہوا سو اسی استغراق میں تھا کہ ایک دفعہ یہ الہام ہوا