حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 219
حیات احمد ۲۱۹ جلد دوم حصہ دوم وَقَالُوا أَنَّى لَكَ هذَا۔قُلْ هُوَ اللهُ عَجِيْبٌ يَجْتَبِي مَنْ يَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهِ وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ - ( ترجمہ ) انہیں کہہ دے کہ اگر تم اللہ کے محب بننا چاہتے ہو تو میری پیروی کرو اور اللہ تم سے محبت کرے گا۔میں تجھے طبعی طور پر وفات دوں گا اور اپنی طرف تیرا رفع کروں گا۔اور تیرے تابعداروں کو تیرے منکروں پر قیامت تک غلبہ دوں گا۔اور انہوں نے کہا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہہ دے اللہ تعالیٰ عجیب ہے اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے برگزیدہ کر لیتا ہے اور ان ایام کو ہم لوگوں میں پھیرتے رہتے ہیں۔مکتوبات احمد جلد اول صفحه ۵۳۴ مطبوعه ۲۰۰۸ء) (۶) ( ۱۲ جون ۱۸۸۳ء) كَذَبَ عَلَيْكُمُ الْخَبِيثُ كَذَبَ عَلَيْكُمُ الْخِنْزِيرُ عِنَايَةُ اللهِ حَافِظُكَ إِنِّي مَعَكَ اَسْمَعُ وَاَرُى۔أَلَيْسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ۔فَبَرَّأَهُ اللهُ مِمَّا قَالُوا وَكَانَ عِنْدَ اللَّهِ وَجِيْهَا - مکتوبات احمد جلد اول صفحه ۵۳۴ مطبوعه ۲۰۰۸ء) ( ترجمہ ) تم پر خبیث نے جھوٹ باندھا تم پر خنزیر نے جھوٹ باندھا۔اللہ تعالیٰ کی عنایت تیری حافظ ہے میں تیرے ساتھ ہوں میں سنتا ہوں اور دیکھتا ہوں۔کیا اللہ اپنے بندے کے لئے کافی نہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے اس کو بری ثابت کیا اس بات سے جو انہوں نے اس کی نسبت کہی تھی وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وجیہ تھا۔(۷) (۱۲ / جون ۱۸۸۳ء سے چند روز قبل ) وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيِّمَةِ - ( ترجمہ ) اور تیرے متبعین کو تیرے منکروں پر قیامت تک غلبہ دوں گا ( تشریح ) حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ یہ آیت وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ بار بار الهام ہوئی اور اس قدر متواتر ہوئی کہ جس کا شمار خدا ہی کو معلوم ہے۔اور اس قدر زور سے