حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 206
حیات احمد ۲۰۶ مرز اغلام قادر صاحب کی وفات جلد دوم حصہ دوم ۱۸۸۳ء کے واقعات اور حالات میں ایک عظیم الشان واقعہ جناب مرزا غلام قادر صاحب آپ کے برادر بزرگ کی وفات کا واقعہ بھی ہے یہ واقعہ روز مرہ کے حالات موت وفوت کے لحاظ سے اتنا اہم نہ ہو لیکن جیسے آپ کے والد ماجد کی وفات اور آپ کی زندگی میں ایک جدید انقلاب کا جو خدا تعالیٰ کے خاص تکفل کی صورت میں ظاہر ہوا ذریعہ ہوا۔اسی طرح مرزا غلام قادر صاحب کی وفات بھی ایک دور جدید کا ذریعہ ہوئی اور علاوہ بریں ان کی زندگی اور بیماری اور موت کو چونکہ آپ کے نشان ہائے صداقت سے زبر دست تعلق ہے اس لئے یہ واقعہ روز مرہ کے عام واقعات کے تحت میں نہیں آتا۔مرزا غلام قادر صاحب مرحوم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بڑے بھائی تھے انہوں نے اپنی خاندانی وجاہت اور عظمت کو حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب کی زندگی میں چار چاند لگا دیئے تھے اپنی قابلیت اور معاملہ فہمی اور رعب کے سبب سے بہت مشہور تھے کچھ عرصہ تک انہوں نے محکمہ نہر میں ملازمت کی اس وقت وہ ضلعدار تھے پھر وہ نوکری چھوڑ کر ضلع گورداسپور میں سپرنٹنڈنٹ ہو گئے اُن کا اثر اور رسوخ اس قدر زبردست تھا اور ان کی دیانت و امانت اور اصابت رائے پر ڈپٹی کمشنر ضلع کو اس قدر اعتماد ہوتا تھا کہ ان کی مرضی کے خلاف وہ کوئی کا رروائی نہیں کرتے تھے بلکہ بعض نے تو یہ حکم دے دیا تھا کہ مجھے ملنے سے پہلے مرزا غلام قادر صاحب کو ملو اگر وہ اجازت دیتے تو صاحب ضلع ان سے ملاقات کرتے۔غرض وہ اپنی قابلیت اور معاملہ منہمی اور اپنی دیانت و اصابت رائے کی وجہ سے ممتاز تھے اور یوں خاندانی عظمت کے لحاظ سے بھی ان کا رعب بے حد تھا جس روز وہ آیا کرتے تھے تو لوگ دور سے دیکھ کر کھڑے ہو جاتے اور سامنے سے ہٹ جاتے اور ان کی طرف کوئی نظر اٹھا کر نہیں دیکھ سکتا تھا۔بڑے مرزا صاحب