حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 207
حیات احمد ۲۰۷ جلد دوم حصہ دوم یعنی مرزا غلام مرتضی صاحب کی طرف بھی کوئی نظر نہیں اٹھا سکتا تھا۔مرزا غلام قادر صاحب کو ورزش کا بھی شوق تھا پہلوان ملازم رکھ کر ورزش کیا کرتے تھے۔غرض خاندانی وجاہت اور اثر ان کے ساتھ قائم تھا اور ساری جائیداد پر عملاً وہ قابض تھے۔حضرت اقدس کا احترام ان کے دل میں ضرور تھا مگر وہ سمجھتے تھے کہ وہ اس دنیا کا آدمی نہیں اپنی عبادت یا تصنیفات کے شغل میں رہتے ہیں اس لئے گونہ بے پروائی سی رہتی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اُن کی خاندان میں بڑے ممبر اور بڑے بھائی کی حیثیت سے احترام کرتے تھے مگر اُن کی مجلس یا مشاغل میں کوئی دخل نہ دیتے تھے اور نہ اپنی ضرورتوں کے لئے کبھی ان سے کوئی ذکر کرتے۔حضرت اقدس ان سے صرف کسی دینی ضرورت کے وقت گفتگو کیا کرتے تھے۔چنانچہ جب کچھ خاندانی جائیداد کے بعض مقدمات کا سلسلہ شروع ہوا جس کے محرک مرزا امام الدین صاحب وغیرہ ابنائے عم تھے تو حضرت اقدس نے اس معاملہ میں دعا کی اللہ تعالیٰ نے آپ کو جواب دیا کہ میں تیری ساری دعائیں قبول کروں گا مگر شرکاء کے بارے میں نہیں“۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ : '' یہ الہام اس قدر زور سے ہوا تھا کہ میں نے سمجھا کہ شاید قریب محلہ کے لوگوں تک یہ آواز پہنچی ہو گی اور میں جناب الہی کے اس منشاء سے مطلع ہو کر گھر گیا اور میرے بھائی مرزا غلام قادر اس وقت زندہ تھے میں نے اُن کے رو برو اور تمام گھر کے لوگوں کے سب حال ان کو کہہ دیا انہوں نے جواب دیا کہ اب ہم مقدمہ میں بہت کچھ خرچ کر چکے ہیں اگر پہلے سے کہتے تو ہم مقدمہ نہ کرتے“ " حضرت اقدس فرماتے ہیں مگر یہ عذر ان کا سرسری تھا اُن کو اپنی کامیابی اور فتح پر یقین تھا چنانچہ پہلی عدالت میں اُن کی فتح ہو گئی مگر چیف کورٹ میں مدعی کامیاب ہو گئے۔“ (حقیقۃ الوحی صفحه ۲۴۳ ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۴ ۲۵۵،۲۵)