حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 196 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 196

حیات احمد ۱۹۶ جلد دوم حصہ دوم صدق کو پہنچانے کی مشکلات کا اظہار فرمایا۔عمل معتبر کی حقیقت بتائی اس مکتوب میں ترقی کی پیشگوئی فرمائی اور دوستوں کی قلیل تعداد ( تین چار ) کے بڑھ جانے کی بشارت دی۔ایسے زمانہ میں صداقت کی روشنی ایک نئی بات ہے اور اس پر وہی قائم رہ سکتے ہیں جن کے دلوں کو خدا آپ مضبوط کرے اور چونکہ خدا وند کریم کی بشارتوں میں تبدیلی نہیں۔اس لئے امید ہے کہ وہ اس ظلمت میں سے بہت سے نورانی دل پیدا کر کے دکھلا دے گا کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے اس وقت ابھی کوئی دعوی نہیں تھا مگر خدا تعالیٰ کی بشارتیں مل رہی تھیں میر عباس علی صاحب کے متعلق ایک کشف کا بھی ذکر کیا“۔مکتوبات احمد جلد اصفحه ۵۱۴ مطبوعه ۲۰۰۸ء) (۴) ۳ مارچ ۱۸۸۳ء میر عباس علی صاحب کے خط کی عبارتیں خط آنے سے پیشتر کشفی صورت میں آپ پر ظاہر کی گئیں۔چنانچہ ان کو لکھا آپ کا خط جو آپ نے لودہانہ سے لکھا تھا پہنچ گیا جس کے مطالعہ سے بہت خوشی ہوئی بالخصوص اس وجہ سے کہ جس روز آپ کا خط آیا اسی روز بعض عبارتیں آپ کے خط کی کسی قدر کمی بیشی سے بصورت کشفی ظاہر کی گئیں۔۲ مارچ ۱۸۸۳ء کو لیکھرام کا خط آریہ سماج قادیان کے نام آریہ سماج صوابی کی طرف سے آیا تھا اس کی اطلاع دی۔جو اسرار آپ پر کھولے جاتے تھے ان کے اظہار کی حقیقت کو بیان کیا کہ اس زمانہ میں ان باتوں کو بیان کرنا نہایت ضروری ہے کیونکہ ظلمت اپنے کمال کو پہنچ گئی ہے گو دوسرے لوگ اپنی نافہمی سے اس اظہار کو ریا کاری میں داخل کریں یا کچھ اور سمجھیں مگر یہ عاجز اس کی کچھ پرواہ نہیں کرتا کہ لوگ کیا کہیں گے اور خداوند کریم نے اس عاجز کو عام فقرا کے برخلاف طریقہ بخشا ہے جس میں ظاہر کرنا بعض اسرار ربانی کا عین فرض ہے۔(مکتوب نمبر ۶ مکتوبات احمد جلد اصفحه ۵۱۶،۵۱۵ مطبوعه ۲۰۰۸ء) (۵) ۱۸ مارچ ۱۸۸۳ء آپ نے ایک مبسوط مکتوب فلسفہ خواب پر لکھا جس میں بتایا کہ کیوں عالم بیداری کی سی حالت نہیں ہوتی۔کشف اور رؤیا کا فرق۔مقامِ عبودیت۔فناء اتم کی حقیقت کو بیان فرمایا یہ نہایت ہی علمی مکتوب ہے اور تصوف اور ریا کے اسرار پر مشتمل ہے۔(۶) ۲۵ مارچ ۱۸۸۳ء کو اسی سلسلہ میں ایک اور مبسوط مکتوب لکھا جس میں حقائق