حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 192
حیات احمد ۱۹۲ جلد دوم حصہ دوم بیگم صاحبہ بھوپال نے جو والیہ ریاست تھیں ان سے شادی کر لی۔اور نواب صدیق حسن صاحب اس طرح پر سیاہ وسفید کے عملاً مالک ہو گئے۔مذہباً وہ اہلحدیث تھے اور صاحب تصنیف و تالیف تھے۔اب میں اس واقعہ کے متعلق حالات لکھتا ہوں۔میں اجمالی طور پر بیان کر آیا ہوں کہ انہوں نے کتاب کی خریداری کا پہلے وعدہ کیا اور پھر کتاب واپس کر دی۔اس کی کسی قدر تفصیل یہاں دیتا ہوں۔حافظ حامد علی رضی اللہ عنہ اس وقت حضرت اقدس کی خدمت میں آچکے تھے اور یہ واقعہ ان کے سامنے کا ہے اور انہوں نے بھی بیان کیا تھا۔نواب صاحب کی مصائب کی شدت میں دعا کے لئے آنے کا واقعہ خود حافظ محمد یوسف صاحب امرتسری نے مجھ سے بیان کیا جن کے ساتھ مجھے برابر سال ڈیڑھ سال تک رہنے کا اتفاق ہوا۔حضرت اقدس نے براہین احمدیہ کے لئے مسلمان رؤسا و امراء کو اعانت کے لئے تحریک کی تھی۔اسی سلسلہ میں بیگم صاحبہ بھو پال اور نواب صدیق حسن صاحب کو بھی لکھا گیا۔نواب صاحب خود ایک علم دوست اور ذی علم آدمی سمجھے جاتے تھے اور انہوں نے کتب دینی کی اشاعت و تالیف کا کام بھی خوب کیا۔انہوں نے اس وقت براہین کی اعانت و خریداری کا وعدہ کر لیا مگر جب کتاب شائع ہوئی اور حضرت نے اس کے تینوں حصے بھیج دیئے تو انہوں نے کتاب واپس کر دی کہ اس میں عیسائیوں کی تردید ہے اور گورنمنٹ عیسائی ہے ایسی کتابوں کے لئے مدد کرنا گورنمنٹ کو ناراض کرنا ہے لیکن جواب سیاسی الفاظ میں دیا کہ دینی مباحثات کی کتابوں کا خریدنا یا ان میں کچھ مدد دینا خلاف منشاء گورنمنٹ انگریزی ہے اس لئے اس ریاست سے خرید وغیرہ کی امید نہ رکھیں اور کتابیں جو بھیجی گئی تھیں وہ واپس کر دیں کتابوں کا پیکٹ انہوں نے وصول کر لیا تھا کھول کر دیکھ کر پھر دوبارہ نہایت بُری طرح پیکٹ بنا کر بھیج دیا اور وہ پھٹ بھی گئی تھیں۔حافظ حامد علی صاحب کہتے ہیں کہ جب کتاب واپس آئی تو اس وقت حضرت اقدس اپنے مکان میں چہل قدمی کر رہے تھے اور وہ بھی وہاں موجود تھے کتاب کی یہ حالت دیکھ کر کہ وہ پھٹی ہوئی ہے اور نہایت بُری طرح سے اس کو خراب کیا گیا ہے حضرت صاحب کا چہرہ متغیر ہو گیا اور غصہ سے سرخ ہو گیا۔حامد علی کہتا ہے کہ ”میں نے اپنی ساری عمر میں