حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 191
حیات احمد ۱۹۱ جلد دوم حصہ دوم اور آپ نے صاف صاف اعلان کیا کہ یہ کچھ تجارت کا معاملہ نہیں اور مؤلّف کو بجز تائید دین کے کسی کے مال سے کچھ غرض نہیں لوگ عام طور پر خصوصاً اُمراء براہین کی اشاعت و اعانت کی تحریکوں کا نہایت سرد مہری سے جواب دے رہے تھے اور حضرت نے کبھی اس پر التفات نہ فرمائی۔لودہانہ کے ایک رئیس شاہ دین نے کتاب واپس کر دی جو میر عباس علی صاحب کی تحریرہ پر بھیجی گئی تھی جب حضرت کی طرف سے اس کتاب کے متعلق کوئی اطلاع انہیں نہ ملی اور معلوم ہوا کہ کتاب واپس ہو گئی ہے تو انہوں نے حضرت کو لکھا کہ مجھے واپسی کتاب کی اطلاع کیوں نہیں دی گئی۔حضرت نے ۲۱ رمئی ۱۸۸۳ء کو انہیں لکھا کہ :۔شاہ دین صاحب رئیس لودہانہ کی طرف انہیں دنوں میں کتاب بھیجی گئی جب آپ نے لکھا تھا مگر انہوں نے پیکٹ واپس کیا اور بغیر کھولنے کے اوپرلکھ دیا کہ ہم کو لینا منظور نہیں چونکہ ایک خفیف بات تھی اس لئے آپ کو اطلاع دینے سے غفلت ہوگئی۔آپ کوشش کرنے میں تو شکل کی رعایت رکھیں اور اپنے حفظ مرتبت کے لحاظ سے کارروائی فرماویں اور جو شخص اس کام کی قدر نہ سمجھتا ہو یا اہلیت نہ رکھتا ہواس کو کچھ کہنا مناسب نہیں۔“ مکتوبات احمد جلد اصفحه ۵۳۱ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) یہ تمہید میں نے ایک عظیم الشان واقعہ کے بیان کے لئے لکھی ہے جو اسی سال ۱۸۸۳ء میں وقوع میں آیا تا کہ پڑھنے والوں کو یہ مغالطہ نہ لگے کہ حضرت اقدس پر جو کیفیت اس واقعہ کے ضمن میں طاری ہوئی وہ کسی ذاتی یا نفسانی جذبہ کے ماتحت تھی بلکہ ایک قدرتی اور ربانی امر تھا۔ہاں وہ ان حالات میں پیش آ گیا۔یہ عظیم الشان واقعہ نواب صدیق حسن خان آف بھوپال کے متعلق ہے جس نے کتاب براہین احمدیہ کو باوجود اس کی خریداری و اعانت کا وعدہ کرنے کے واپس کیا۔قبل اس کے کہ میں اس واقعہ کو کسی قدر صراحت کے ساتھ بیان کروں اتنا اور لکھنا ضروری ہے کہ نواب صدیق حسن صاحب قنوج کے رہنے والے ایک ذی علم انسان تھے تقدیر انہیں بھو پال لے گئی اور وہاں ان کو ایسے اسباب میسر آگئے کہ وہ مولوی صدیق حسن سے نواب صدیق حسن بن گئے۔