حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 190
حیات احمد 190 جلد دوم حصہ دوم سے زیادہ گزرے ہیں آریہ سماج اور حکومت کی پوری سرگرمی اور تفتیش کے لئے ہر ممکن کوشش کے باوجود اس قتل کا سراغ نہ ملا۔حضرت اقدس نے اپنی تصنیفات میں بالتفصیل اس پیشگوئی پر لکھا ہے یہاں اس کے ذکر کی ضرورت اسی قدر تھی۔اس طرح پر لیکھرام کا فتنہ جو۱۸۸۳ء میں اس وقت اٹھا تھا جبکہ وہ صوابی ضلع پشاور میں محکمہ پولیس میں نوکر تھا وہ مختلف رنگ بدلتا رہا اور ۱۸۹۳ء میں اس کے انجام کی خبر شائع ہوئی اور ۱۸۹۷ء میں اسی طرح وقوع میں آگئی۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ أَوَّلًا وَّاخِرًا وَظَاهِرًا وَّ بَاطِنًا۔نواب صدیق حسن خان صاحب اور واپسی براہین تا دے مرد خدا نامد به درد پیچ قومی را خدا رسوا نکر دله براہین احمدیہ کی اشاعت کے متعلق حضرت اقدس کا یہ معمول رہا کہ آپ نے ظاہری اسباب کی حد تک تو اس کی خریداری کے لئے تحریک بھی کی۔اشتہارات بھی دیئے اور سنن انبیاء کے طریق پر لوگوں کو براہین کی اعانت کے لئے بھی پکارا مگر ان تمام حالات میں آپ کا مقام توكل وتفویض الی اللہ سب سے اونچا تھا۔میں اس جلد کے پہلے نمبر میں صفحہ ۴۴ لغایت صفحہ ۲۵۰ تک اس حیثیت کو دستاویزی ثبوت کے ساتھ بیان کر چکا ہوں کہ براہین کی اشاعت تجارتی اصولوں پر نہ تھی اور آپ نے بار بار میر عباس علی صاحب کو ( جو اس وقت براہین احمدیہ کی اشاعت کے لئے بہت سرگرمی کے ساتھ مخلصانہ جدو جہد میں مصروف تھے ) لکھا کہ چونکہ یہ کام خالصۂ خدا کے لئے اور خود حضرت احدیت کے ارادہ خاص سے ہے اس لئے آپ اس کے خریداروں کی فراہمی میں یہ لحوظ خاطر شریف رکھیں کہ کوئی ایسا خریدار شامل نہ ہو جس کی محض خرید وفروخت پر نظر ہو بلکہ جو لوگ دینی محبت سے مدد کرنا چاہتے ہیں ان کی خریداری مبارک اور بہتر ہے درحقیقت یہ کوئی خرید وفروخت کا کام نہیں۔“ لے ترجمہ۔جب تک خدا تعالیٰ کے کسی بندے کا دل نہ دکھایا جائے خدا تعالیٰ کسی قوم کو رسوا نہیں کرتا۔سے موجودہ صفحه ۲ ۷ تا ۷۵ جلد دوم حصہ اوّل