حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 189
حیات احمد ۱۸۹ جلد دوم حصہ دوم اور میں کچھ خوف نہیں کرتا بالآ خر ۲۰ / فروری ۱۸۹۳ء کو لیکھرام کے متعلق پیشگوئی شائع کر دی گئی اور اس پیشگوئی کے موافق وہ ۶ / مارچ ۱۸۹۷ء کو بمقام لاہور قتل ہو گیا اور آج تک کہ اس پر ۳۷ سال بقیہ حاشیہ عقل سے جواب دیا اور آپ نے قرآنی اعتراض کا نقل سے۔مگر وہ عقل سے بسا بعید ہے۔اگر آپ فارغ نہیں تو مجھے بھی تو کام بہت ہے اچھا آسمانی نشان تو دکھاویں۔اگر بحث نہیں کرنا چاہتے تو رَبُّ الْعَرْشِ خَيْرُ الْمَاكِرِین سے میری نسبت کوئی آسمانی نشان تو مانگیں۔تا فیصلہ ہو۔لیکھرام جناب پنڈت صاحب آپ کا خط میں نے پڑھا۔آپ یقیناً سمجھیں کہ ہم کو نہ بحث سے انکار ہے اور نہ نشان دکھلانے سے۔مگر آپ سیدھی نیت سے طلب حق نہیں کرتے بجا شرائط زیادہ کر دیتے ہیں۔آپ کی زبان بد زبانی سے رکتی نہیں۔آپ لکھتے ہیں کہ اگر بحث نہیں کرنا چاہتے تو رَبُّ الْعَرْشِ خَيْرُ الْمَاكِرِيْنِ سے میری نسبت کوئی آسمانی نشان مانگیں۔یہ کس قدر ہنسی ٹھٹھے کے کلمے ہیں۔گویا آپ اُس خدا پر ایمان نہیں لاتے جو بے باکوں کو تنبیہ کر سکتا ہے۔باقی رہا یہ اشارہ کہ خدا عرش پر ہے اور مکر کرتا ہے یہ خود آپ کی نا سمجھی ہے۔مکر لطیف اور مخفی تدبیر کو کہتے ہیں جس کا اطلاق خدا پر ناجائز نہیں۔اور عرش کا کلمہ خدا تعالیٰ کی عظمت کے لئے آتا ہے۔کیونکہ وہ سب اونچوں سے زیادہ اونچا اور جلال رکھتا ہے۔یہ نہیں کہ وہ کسی انسان کی طرح کسی تخت کا محتاج ہے۔خود قرآن میں ہے کہ ہر ایک چیز کو اس نے تھاما ہوا ہے اور وہ قیوم ہے جس کو کسی چیز کا سہارا نہیں۔پھر جب قرآن شریف یہ فرماتا ہے تو عرش کا اعتراض کرنا کس قدر ظلم ہے۔آپ عربی سے بے بہرہ ہیں۔آپ کو مکر کے معنی بھی معلوم نہیں۔مکر کے مفہوم میں کوئی ایسا نا جائز امر نہیں ہے۔جو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب نہیں ہو سکتا۔شریروں کو سزا دینے کے لئے خدا کے جو باریک اور مخفی کام ہیں ان کا نام مکر ہے۔لغت دیکھو پھر اعتراض کرو۔میں اگر بقول آپ کے وید سے اُمی ہوں تو کیا حرج ہے کیونکہ میں آپ کے مسلم اُصول کو ہاتھ میں لے کر بحث کرتا ہوں۔مگر آپ تو اسلام کے اصول سے باہر ہو جاتے ہیں۔صاف افترا کرتے ہیں چاہئے تھا کہ عرش پر خدا کا ہونا جس طور سے مانا گیا ہے اول مجھ سے دریافت کرتے پھر اگر گنجائش ہوتی تو اعتراض کرتے۔اور ایسا ہی مکر کے معنی اول پوچھتے پھر اعتراض کرتے اور نشان خدا کے پاس ہیں وہ قادر ہے جو آپ کو دکھلاوے۔وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى خاکسار مرزا غلام احمد