حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 178 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 178

حیات احمد ۱۷۸ جلد دوم حصہ دوم آئے ہیں۔ایک ہندو صوابی ضلع پشاور میں رڈ لکھ رہا ہے“ مکتوبات احمد جلد ا صفحه ۵۲۴ مطبوعه ۲۰۰۸ء) یہ ہندو جس کا نام آپ نے نہیں دیا لیکھرام ہی تھا۔یہ امر کہ وہ لیکھرام ہی تھا بعد کے واقعات نے ثابت کر دیا ۳۰ / مارچ ۱۸۸۳ء کو پھر حضرت نے اپنے ایک مکتوب میں اس کا ذکر یوں فرمایا اور اسی میں صوابی آریہ سماج کا ذکر ہے۔اس پہلے خط کو اس سے ملانے کے بعد یہ حقیقت آشکار ہو جاتی ہے کہ یہ شخص لیکھرام ہی تھا۔چنانچہ فرماتے ہیں کل (۲۹ / مارچ ۱۸۸۳ء) صوابی ضلع پشاور سے اس جگہ کی آریہ سماج کے نام صوابی آریہ سماج نے ایک خط بھیجا ہے کہ حصہ سوئم براہین احمدیہ میں تمہاری شہادتیں درج ہیں اس کی اصلیت کیا ہے؟ ”سواگر چہ ہندو لوگ اسلام کے سخت مخالف ہیں مگر ممکن نہیں کہ سچ کو چھپا سکیں اس لئے فکر میں ہو رہے ہیں کہ اپنے بھائیوں کو کیا لکھیں ؟ اگر شرارت سے جھوٹ لکھیں گے تو اس میں روسیا ہی ہے اور آخر پردہ فاش ہو گا اور سچ لکھنے میں مصلحت اپنے مذہب کی نہیں دیکھتے۔اب دیکھنا چاہئے کہ کیونکر پیچھا چھڑاتے ہیں؟ شاید جواب سے خاموش رہیں۔“ ( ۳۰ مارچ ۱۸۸۳ء) گویا ۲۹ مارچ ۱۸۸۳ء وہ ابتدائی تاریخ ہے۔جب پنڈت لیکھر ام اس میدان میں اُترے اور انہوں نے حضرت اقدس کے مقابلہ کی ٹھانی۔یہاں تک واقعات سے پتہ لگتا ہے پنڈت لیکھرام کی سکیم یہ تھی کہ وہ براہین احمدیہ کا جواب لکھیں۔اور اس میں جن پیشگوئیوں کی صداقت کی شہادت قادیان کے آریہ صاحبان نے دی ہوئی تھی ان سے تکذیب یا تردید کرائیں ان کا خیال تھا کہ قومی پاس داری کے لحاظ سے بہت ممکن ہے یہ لوگ انکار کر دیں اور کوئی تحریر ایسی دے دیں جس کو وہ اعلان تردید کے رنگ میں استعمال کر سکے مگر اس میں کامیابی نہیں ہوئی۔گو پنڈت لیکھرام نے اسی سلسلہ میں آگے چل کر ایک مرتبہ حضرت اقدس کو لکھا کہ قادیان کے آریہ