حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 179
حیات احمد ۱۷۹ جلد دوم حصہ دوم لوگوں سے آپ کی کراماتی قلعی کھل چکی ہے۔حضرت اقدس نے اس کو مخاطب کر کے ایک خط میں صاف لکھا کہ ر جس حالت میں قادیان کے بعض آریہ جو میرے پاس آمد و رفت رکھتے ہیں اب تک زندہ موجود ہیں اور اس عاجز کے نشانوں اور خوارق کے قائل اور مُقر ہیں تو پھر نہ معلوم آپ نے کہاں سے اور کس سے سن لیا کہ وہ لوگ منکر ہیں اگر آپ راستی کے طالب تھے تو مناسب تھا کہ قادیان میں آ کر میرے رو برو اور میرے مواجہ میں ان لوگوں سے دریافت کرتے تا جو امر حق ہے آپ پر واضح ہو جاتا مگر یہ بات کس قدر دیانت اور انصاف سے بعید ہے کہ آپ دور بیٹھے قادیان کے آریوں پر ایسی تہمت لگا رہے ہیں۔ذرا آپ سوچیں کہ جس حالت میں میں نے انہیں آریوں کا نام حصہ سوم اور چہارم میں لکھ کر اُن کا شاہد خوارق ہونا حصص مذکورہ میں درج کر کے لاکھوں آدمیوں میں اس واقعہ کی اشاعت کی ہے تو پھر اگر یہ باتیں دروغ بے فروغ ہوں تو کیونکر وہ لوگ اب تک خاموش رہتے بلکہ ضرور تھا کہ اس صریح جھوٹ کے رڈ کرنے کے لئے کئی اخباروں میں اصل کیفیت چھپواتے اور مجھ کو دنیا میں رسوا اور شرمندہ کرتے۔سو منصف آدمی سمجھ سکتا ہے کہ وہ لوگ باوجود شدت مخالفت اور عناد کے اسی وجہ سے خاموش اور لاجواب رہے کہ جو جو میں نے شہادتیں ان کی نسبت لکھیں وہ حق محض تھا۔اور آپ پر لازم ہے کہ آپ اس خطن فاسد سے مخلصی حاصل کرنے کے لئے قادیان آ کر اس بات کی تصدیق کر جائیں۔تاسیہ روئے شود ہر کہ درونش باشد و جواب سے جلد تر مطلع کریں والد عا۔“ مکتوب بنام لیکھرام ۱۶ اپریل ۱۸۸۵ء مکتوبات احمد یہ جلد۲ صفحه ۲۹ مکتوبات احمد جلد اصفحہ ۶۸،۶۷۔مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ا ترجمہ :۔تا ہر کذب بیانی کرنے والا روسیاہ ہو جائے۔(ناشر)