حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 177 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 177

حیات احمد 122 پنڈت لیکھرام میدان تکذیب میں جلد دوم حصہ دوم اسی سال ۱۸۸۳ء کے واقعات میں سے پنڈت لیکھرام کا میدان تکذیب میں آنا ہے اس وقت یہ شخص صوابی ضلع پشاور کے محکمہ پولیس میں ملازم تھا آریہ سماج کے ساتھ اس کے تعلقات تھے۔اس کی شوخ چشمی جو بعد میں ایک نشان کی صورت میں اس کی ہلاکت کا غیر فانی نشان بن گئی کی بنیاد کا پہلا سال یہی ہے۔اس نے براہین احمدیہ میں حضرت کے ان نشانات و آیات کو پڑھا جن کے گواہ خود قادیان کے آریہ صاحبان اور دوسرے ہندو اور مسلمان تھے تو اسے یہ خیال پیدا ہوا کہ آریہ سماج پر یہ حملہ بہت خطرناک ہے۔اس نے چاہا کہ قادیان کے آریہ صاحبان سے ایسی شہادت حاصل کریں جو ان کی مصدقہ شہادت کی تردید کر سکے اس لئے اس مطلب کے لئے اس نے قادیان آریہ سمارج سے ( جو اس وقت کچھ باقاعدہ سماج نہ تھی بلکہ ابتدائی حالت میں تھی ) خط و کتابت شروع کی مگر اس کو اس معاملہ میں کبھی کامیابی نہ ہوئی۔میں یہ کہوں گا کہ قادیان آریہ سماج کے دو بڑے ارکان بلکہ بانیوں لالہ ملا وامل اور لالہ شرمپت رائے پر مختلف اوقات میں آریہ سماج کی طرف سے زور دیا گیا کہ وہ اپنی شہادت کی تکذیب کریں لیکن انہوں نے باوجود یکہ ان پر بہت اثر ڈالا گیا کبھی قبول نہ کیا کہ واقعات کی روشنی میں اس کی تردید کریں۔ان کی یہ ہمت اور جرات خواہ کسی وجہ سے ہو ہمیشہ قابل تعریف رہے گی۔غرض پنڈت لیکھر ام اس سلسلہ میں قادیان سے روشناس ہوا اور اس نے قادیان کے آریوں سے خط و کتابت کا سلسلہ شروع کیا۔اور ان سے یہ ظاہر کیا کہ وہ رڈ لکھ رہا ہے۔چنانچہ پہلی مرتبہ حضرت کی تحریروں میں اس کا ذکر ایک مکتوب میں آیا جو آپ نے میر عباس علی صاحب کے ایک دعوتی خط کے جواب میں لکھا۔میں او پر لکھ آیا ہوں کہ میر عباس علی صاحب اور لودہانہ کے احباب بار بار حضرت کو لودہا نہ آنے کی دعوت دے رہے تھے اور خود میر عباس علی صاحب اس دعوت کو لے کر قادیان بھی آئے تھے۔حضرت نے ان کو لکھا کہ آپ کے تشریف لے جانے کے بعد چند ہندوؤں کی طرف سے سوالات