حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 156 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 156

حیات احمد ۱۵۶ جلد دوم حصہ دوم بعد میں وہ سخت مخالفت کرتے رہے لیکن اس بیان کی انہوں نے کبھی تردید نہیں کی۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے براہین احمدیہ پر ایک مبسوط ریویو لکھا تھا۔اس ریویو کا ذکر تو میں شاید کہیں آگے چل کر دوسرے موقع پر کروں یہاں صرف اسی مقام کی مناسبت سے کچھ کہنے کی ضرورت ہے جو اسی سفر لودہانہ کے ساتھ تعلق رکھتی ہے جیسا کہ خود بٹالوی صاحب کی تحریر سے عیاں ہے۔اس سے یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ حضور کا یہ سفر اہلِ اسلام لو دہانہ کی استدعا پر تھا۔غرض میں واقعات سفر اور آغاز مخالفت کے اسباب کی تائید کے لئے ریویو براہین احمدیہ کے صرف اسی قدر حصہ کو لیتا ہوں مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کتاب براہین احمدیہ کی تعریف اس کے برکات اور فیوض کا ذکر نے کے بعد لکھتے ہیں مگر افسوس۔صد افسوس سب سے پہلے اس کتاب کی خوبی بحق اسلام نفع رسانی سے بعض مسلمانوں ہی نے انکار کیا اور برطبق أَتَجْعَلُوْنَ رِزْقَكُمُ أَنَّكُمُ تُكَذِبُونَ۔اس احسان مؤلّف کے مقابلہ میں کفران کر کے دکھایا۔اسی فقرہ میں مسلمانوں اور انکار کے لفظ پر حاشیہ دے کر آپ نے مسلمانوں سے مراد امرتسر لود ہانہ کے ساکنین بتائی اور انکار کے حاشیہ میں حسب ذیل نوٹ لکھا۔( نوٹ لائق توجہ گورنمنٹ ) اس انکار و کفران پر باعث لودہانہ کے بعض مسلمانوں کو تو صرف حسد و عداوت ہے جس کے ظاہری دو سبب ہیں ایک یہ کہ ان کو اپنی جہالت ( نہ اسلام کی ہدایت سے گورنمنٹ انگلشیہ سے جہاد و بغاوت کا اعتقاد ہے اور اس کتاب میں اس گورنمنٹ سے جہاد و بغاوت کو ناجائز لکھا ہے لہذا وہ لوگ اس کتاب کے مؤلف کو منکر جہاد سمجھتے ہیں اور از راہِ تعصب جہالت کے محض مخالفت کو اپنا مذہبی فرض خیال کرتے ہیں۔مگر چونکہ وہ گورنمنٹ کے سیف و اقبال کے خوف سے اعلانیہ طور پر ان کو منکر جہاد نہیں کہہ سکتے۔لہذا وہ اس وجہ سے کفر کو دل میں رکھتے ہیں اور بجز خاص اشخاص ( جن سے ہم کو یہ خبر پہنچی ہے ) کسی پر ظاہر نہیں کرتے اور اس کا اظہار دوسرے لباس و پیرا یہ میں کرتے اور یہ کہتے ہیں کہ براہین احمدیہ فلاں فلاں امور کفریہ دعوی نبوت اور نزول قرآن اور تحریف آیات قرآنیہ ) پائی جاتی ہے اس لئے اس کا مؤلف کا فر