حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 157
حیات احمد ۱۵۷ جلد دوم حصہ دوم ہے۔مدرسہ دیو بند بر موقع دستار بندی پر یہ حضرات بھی وہاں جا پہنچے اور لمبے لمبے فتویٰ تکفیر مؤلف براہین احمدیہ کے لکھ کر لے گئے۔اور علماء دیو بند و گنگوہ وغیرہ سے ان پر دستخط ومواہیر ثبت کرنے کے خواستگار ہوئے مگر چونکہ وہ کفر اُن کا اپنا خانہ ساز کفر تھا جس کا براہین احمدیہ میں کچھ اثر نہ پایا جاتا تھا۔لہذا علماء دیو بندو گنگوہ نے ان فتووں پر مہر و دستخط کرنے سے انکار کیا۔اور ان لوگوں کو تکفیر مؤلّف سے روکا اور کوئی ایک عالم بھی ان کا اس تکفیر میں موافق نہ ہوا۔جس سے وہ بہت ناخوش ہوئے۔اور بلا ملاقات وہاں سے بھاگے اور كَأَنَّهُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنْفِرَةٌ کے مصداق بنے۔ناظرین ان کا یہ حال سن کر متعجب اور اس امر کے منتظر ہوں گے کہ ایسے دلیر اور شیر بہادر کون ہیں جو سب علماء وقت کے مخالف ہو کر ایسے جلیل القدر مسلمان کی تکفیر کرتے ہیں اور اپنی مہربان گورنمنٹ کے (جس کے ظِنِ حمایت میں با امن شعار مذہبی ادا کرتے ہیں) جہاد کو جائز سمجھتے ہیں۔ان کے دفع تعجب اور رفع انتظار کے لئے ہم ان حضرات کے نام بھی ظاہر کر دیتے ہیں وہ مولوی عبدالعزیز اور مولوی محمد و غیره پسران مولوی عبد القادر ہیں۔جن سب کا ۱۸۵۷ء سے باغی و بدخواہ گورنمنٹ ہونا ہم اشاعۃ السنہ نمبر ۱۰ جلد ۶ وغیرہ میں ظاہر و ثابت کر چکے ہیں اور اب بھی پبلک طور پر سرکاری کاغذات کی شہادت سے ثابت کرنے کو موجود و مستعد ہیں اگر وہ یا کوئی ان کا ناواقف معتقد اس سے انکار کرے۔دوسرا سبب یہ کہ انہوں نے باستعانت بعض معزز اہلِ اسلام لو دہانہ (جن کی نیک نیتی اور خیر خواہی ملک وسلطنت میں کوئی شک نہیں ) بمقابلہ مدرسہ کے لئے لودہانہ میں چندہ جمع ہو رہا تھا انہیں ایام میں مؤلّف براہین احمدیہ باستد عا اہلِ اسلام لودہا نہ میں پہنچ گئے اور وہاں کے مسلمان ان کے فیض زیارت اور ان کے شرف صحبت سے مشرف ہوئے ان کی برکات اور اثر صحبت کو دیکھ کر اکثر چندہ دینے کے لئے ان کی طرف متوجہ ہو گئے اور اس کے بہت سے روپیہ طبع و اشاعت براہین احمدیہ کے لئے مؤلف کی خدمت میں پیشکش کئے گئے اور مولوی صاحب مذکور تہی دست ہو کر ہاتھ ملتے رہ گئے۔اس امر نے بھی ان حضرات کو بھڑ کا یا اور مؤلف کی تکفیر پر آمادہ کیا۔جن کو ان باتوں کے صدق میں شک ہو وہ ہم کو اس امر سے مطلع کرے۔ہم لو دہانہ سے عمدہ اور