حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 121 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 121

حیات احمد ۱۲۱ جلد دوم حصہ اول لاہور کے پرچہ رفاہ میں براہین کی مخالفت اور حضرت اقدس کا ان کی ناکامی کی پیشگوئی کرنا براہین احمدیہ کی تیسری جلد کی اشاعت کے ساتھ مخالفین میں ایک طوفان بے تمیزی پیدا ہو گیا۔اس میں برہموؤں پر خصوصیت سے زد تھی اس لئے اُن میں جوش پیدا ہونا لازمی تھا۔فرقہ نیچر یہ کو بھی اس حملہ سے نقصان اٹھانا پڑا۔سرسید احمد خان صاحب چونکہ تعلیمی خدمت مسلمانوں کی کر رہے تھے اور ان کے کام کو ایک طبقہ پسندیدہ نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔بعض نیک نفس لوگوں کو اس کا بھی احساس ہوا کہ سرسید کے خلاف کچھ نہ لکھا جاوے۔نیز بعض مقامات میں جو حضرت کی تعریف تھی اس کو بھی مبالغہ سمجھا گیا۔ان شریف الطبع اور نیک نفس لوگوں میں سے ایک منشی احمد جان صاحب لود بانوی تھے انہوں نے میر عباس علی صاحب کے ذریعہ ایک خط لکھوایا جس میں سرسید کے متعلق کچھ نہ لکھنے کا بھی نہایت ادب اور نیک نیتی کے ساتھ اشارہ تھا۔حضرت نے ۸/نومبر ۱۸۸۲ء کو اس کے جواب میں آریہ سماج اور برہم سماج کا فرق بتاتے ہوئے ظاہر کیا کہ :- بر ہمو سماج کا فرقہ دلائل عقلیہ پر چلتا ہے اور اپنی عقلِ نا تمام کی وجہ سے کتب الہامیہ کا منکر ہے۔چونکہ انسان کا خاصہ ہے کہ معقولات سے زیادہ اور جلد تر متاثر ہوتا ہے اس لئے اطفال مدارس اور بہت سے نو تعلیم یافتہ اُن کی سوفسطائی تقریروں سے متاثر ہو گئے اور سید احمد خان بھی انہیں کی ایک شاخ ہے اور انہیں کی صحبتوں سے متاثر ہے پس ان کے زہرناک وساوس کی بیخ کنی کرنا از حد ضروری تھا۔لاہور کے برہمو سماج نے پرچہ رفاہ میں بہ نیت رڈ حصہ سوم کچھ لکھنا بھی شروع کیا ہے مگر حق محض کے آگے اُن کی کوششیں ضائع ہیں۔عنقریب خدا اُن کو ذلیل اور رسوا کرے گا اور اپنے دین کی عظمت اور صداقت ظاہر کر دیگا۔" منشی احمد جان صاحب نے جو یہ نصیحت فرمائی ہے کہ تعریف میں مبالغہ نہ ہو۔