حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 122 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 122

حیات احمد ۱۲۲ جلد دوم حصہ اول اس کا مطلب اس عاجز کو معلوم نہیں ہوا۔اس کتاب میں تعریف قرآن شریف اور حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے۔سو وہ دونوں دریائے بے انتہا ہیں۔اگر تمام دنیا کے عاقل اور فاضل اُن کی تعریف کریں تب بھی حق تعریف کا ادا نہیں ہو سکتا، چہ جائیکہ مبالغہ تک نوبت پہنچے۔ہاں الہامی عبارت میں کہ جو اس عاجز پر خداوند کریم کی طرف سے القا ہوئے کچھ کچھ تعریفیں ایسی لکھی ہیں کہ بظاہر اس عاجز کی طرف منسوب ہوتی ہیں مگر حقیقت میں وہ سب تعریفیں خاتم الانبیاء کی ہیں صلی اللہ علیہ وسلم اور اُسی وقت تک کوئی دوسرا اُن کی طرف منسوب ہو سکتا ہے کہ جب تک اُس نبی کریم کی متابعت کرے اور جب متابعت سے ایک ذرہ منہ پھیرے تو پھر تَحْتَ الشَّـرى میں گر جاتا ہے۔اُن الہامی عبارتوں میں خدا وند کریم کا یہی منشاء ہے کہ اپنے نبی اور اپنی کتاب کی عظمت ظاہر کرے۔“ مکتوبات بنام میر عباس علی شاہ صاحب - مکتوبات احمد جلد اوّل صفحه ۵۰۹ مطبوعه ۲۰۰۸ء) واقعات نے بتا دیا کہ برہمو سماج والے براہین کے رڈ کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے بلکہ ان کا رئیس ستیا نند اگنی ہوتری اولاً جس الہام کا منکر تھا خود اس کا قائل ہوا۔اور پھر برہمو سماج سے الگ ہو کر ایک الگ سماج بنانے کا مدعی ٹھہرا۔چنانچہ لاہور میں دیو سماج قائم ہوگئی اور بالآخر وہی شخص جو خدا تعالیٰ سے الہام پانے کا مدعی تھا خود خدا سے منکر ہو کر دیو گرو بھگوان بن گیا۔لاہور کے براہم سماج کو اس کی وجہ سے بہت نقصان اور ضعف پہنچا اور اس کی ناکامی اور حضرت مسیح موعود کی کامیابی اور عظمت کا ظہور نمایاں ہے جیسا کہ آگے آئے گا۔66 ۱۸۸۳ء کے حالات اور واقعات ۱۸۸۳ء کے واقعات اور آپ کے سوانح حیات کی ترتیب تاریخ وار تو دشوار ہے۔اس لئے کہ کوئی باقاعدہ ڈائری ان ایام میں کسی نے نہیں رکھی ہاں جہاں تک ممکن ہو گا تاریخ ترتیب کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا یہ بھی نہیں کہ تکلف کے ساتھ ترتیب تاریخ کو مد نظر رکھا جاوے البتہ