حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 108 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 108

حیات احمد جلد دوم حصہ اوّل الہامات پر تین سال گزر گئے حضرت نے نہ کہیں تحریک کی اور نہ آپ کو اس کا کوئی خیال اور خواہش تھی بلکہ آپ تو شادی کے بار سے گھبراتے تھے۔ہاں ! خدا تعالیٰ کی بشارت کی صداقت پر ایمان رکھتے تھے کہ وہ جس طرح پر چاہے گا ( کرے گا)۔ایک پادری کا سوال اور حضرت کا جواب ۳ مارچ ۱۸۸۲ء کے اخبار نور افشاں میں ایک پادری صاحب نے ایک سوال به خیال خویش عدم ضرورت قرآن ثابت کرنے کے لئے شائع کیا کہ :- حیات ابدی کی نسبت کتاب مقدس میں کیا نہ تھا کہ قرآن یا صاحب قرآن لائے اور قرآن کن کن امروں اور تعلیمات میں انجیل پر فوقیت رکھتا ہے۔تا یہ ثابت ہو کہ انجیل کے اترنے کے بعد قرآن کے نازل ہونے کی بھی ضرورت ہے۔اس سوال کے جواب کے لئے پادری صاحب نے جہاں بعض اور لوگوں کو چیلنج دیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام لکھ کر آپ سے بھی خطاب کیا۔دوسروں نے اس کا جواب دیا یا نہ دیا مجھے اس سے بحث نہیں مگر آپ نے اس کا ایک مبسوط جواب دیا آپ کا منظوم کلام۔آؤ عیسائیو ادھر آؤ نور حق دیکھو راہ حق پاؤ بات جب ہے کہ میرے پاس آویں میرے منہ پر وہ بات کر جاویں مجھ سے اُس دلستاں کا حال سنیں مجھ سے وہ صورت و جمال سنیں آنکھ پھوٹی تو خیر کان سہی نہ سہی یونہی امتحان سہی والی مشہور نظم اسی تقریب پر آپ نے لکھی تھی۔اس سوال کے جواب میں آپ نے ایک باطل کش مضمون لکھا وہ نہ صرف براہین احمدیہ میں چھپا بلکہ اس کے سوا بھی بعض اخبارات میں شائع ہوا نورافشان نے خود سے نہیں چھاپا۔عدم ضرورت ثابت کرنے والے مسیحی متکلم کا اس پر دیوالہ نکل گیا۔حضرت نے حقیقی جواب کے ساتھ الزامی جواب بھی دیا اور براہین احمدیہ کا دس ہزار کا انعامی چیلنج غیرت دلانے والے الفاظ میں اس کو پیش کیا مگر وہاں جواب دینے اور مقابلہ میں آنے کی