حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 109
حیات احمد 1+9 جلد دوم حصہ اوّل ہمت کس کو تھی ؟ حضرت نے اس جواب کو براہین احمدیہ کی دوسری جلد کے حاشیہ نمبر۲ میں اپنی تحدی کے ساتھ شائع کر دیا اور آج تک کسی کو اس کے مقابلہ میں آنے کی توفیق نہ مل سکی۔یہ پادری صاحب جن کا نام حضرت نے نہیں دیا مگر یہ ثابت ہے کہ آپ پادری جی۔ایل ٹھاکر داس صاحب تھے جنہوں نے عدم ضرورت قرآن کے نام سے ایک رسالہ بھی لکھا تھا مگر وہ اس مقابلہ میں نہیں آئے اور یوں دعوے کرتے رہے کہ میں براہین کا رڈ لکھوں گا۔پھر ۲۵ رمئی ۱۸۸۲ء کو ایک اور مسیحی نے ٹو را فشاں میں یہ سوال کیا کہ کون کون سی علامات یا شرائط ہیں جن سے بچے اور جھوٹے نجات دہندہ میں تمیز کی جا سکے ؟ آپ نے حقیقی نجات دہندہ کے شرائط و علامات پر بھی ایک مبسوط بحث کی۔خطر ناک بیماری کا حملہ اور اس سے اعجازی شفا ۱۸۸۰ء میں ایک مرتبہ آپ پر ایک خطرناک بیماری کا حملہ ہوا یہ بیماری قولنج زحیری کی تھی آپ کے ساتھ ہی میاں محمد بخش حجام اسی مرض سے بیمار ہوا تھا وہ آٹھویں دن فوت ہو گیا۔مگر آپ پر اس بیماری کا حملہ بظاہر نہایت خطرناک تھا ہر قسم کے علاج کئے گئے اور کوئی فائدہ نہ ہوا آخر اللہ تعالیٰ نے خود آپ کو ایک علاج بتایا اور اس سے اعجازی شفا آپ کو حاصل ہوئی۔آپ نے خود اس بیماری کی جو کیفیت لکھی ہے وہ زیادہ دلچسپ مؤثر اور ایمان افزا ہے۔فرماتے ہیں : ایک مرتبہ میں سخت بیمار ہوا (اس علالت کا سنہ آپ نے ۱۸۸۰ء نزول ایج صفحہ ۲۰۷ پر دیا ہے عرفانی) یہاں تک کہ تین مختلف وقتوں میں میرے وارثوں نے میرا آخری وقت سمجھ کر مسنون طریقہ پر مجھے تین مرتبہ سورہ یسین سنائی۔جب تیسری مرتبہ سورہ یسین سنائی گئی تو میں دیکھتا تھا کہ بعض عزیز میرے جواب وہ دنیا سے گزر بھی گئے دیواروں کے پیچھے بے اختیار روتے تھے۔اور مجھے ایک قسم کا سخت قولنج تھا اور بار بار دمبدم حاجت ہو کر خون آتا تھا۔سولہ دن برابر ایسی حالت رہی۔اور اس بیماری