حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 107 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 107

حیات احمد 1۔6 جلد دوم حصہ اول اہتمامات تأھل سے دل سخت کارہ تھا اور عیالداری کے بوجھ سے طبیعت متنفر تھی تو اس حالت پر ملالت کے تصور کے وقت یہ الہام ہوا تھا ہر چہ باید نو عروسی را ہمہ ساماں کنم یعنی اس شادی میں تجھے کچھ فکر نہیں کرنا چاہیئے۔ان تمام ضروریات کا رفع کرنا میرے ذمہ رہے گا۔سو تم ہے اُس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اُس نے اپنے وعدہ کے موافق اس شادی کے بعد ہر ایک بار شادی سے مجھے سبکدوش رکھا۔اور مجھے بہت آرام پہنچا۔کوئی باپ دنیا میں کسی بیٹے کی پرورش نہیں کرتا جیسا کہ اس نے میری کی۔اور کوئی والدہ پوری ہشیاری سے دن رات اپنے بچہ کی ایسی خبر نہیں رکھتی جیسا کہ اس نے میری رکھی۔“ 66 تریاق القلوب ایڈیشن اوّل صفحہ ۳۵۔روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۲۰۳٬۲۰۲) ان بشارات کے وقت جو حالت تھی وہ ظاہر ہے۔خود حضرت کو شادی کا خیال نہ تھا اور مالی اور جسمانی قوت بھی اس کی اجازت نہ دیتی تھی مگر بائیں ہمہ خدا کی طرف سے بشارات مل رہی تھیں ان بشارات کا ظہور ۱۸۸۴ء میں ہوا اور میں انشاء اللہ ۱۸۸۴ء کے واقعات میں تفصیل سے اس شادی کا تذکرہ کروں گا۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو بھی انہی ایام میں آپ نے اپنی شادی کی اس بشارت کا گواہ بنا لیا تھا۔آپ کسی تقریب پر بٹالہ تشریف لے گئے اور مولوی محمد حسین ایڈیٹر اشاعۃ السنہ کے مکان پر گئے اس نے خود سوال کیا کہ کوئی الہام آج کل ہوا ہے تو آپ نے (الهام) بِكْر وثب کا اُس کو سنایا اور اس طرح پر یہ خبر تمام لوگوں میں مشہور ہوگئی ان بقیہ حاشیہ۔آپ کی حالت بہت نازک ہو گئی تھی۔چنانچہ ایک مرتبہ مرزا غلام محی الدین مرحوم آپ کے چچانے آپ کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ دنیا میں یہی حال ہے۔سب نے مرنا ہے کوئی آگے گزر جاتا ہے کوئی پیچھے رہ جاتا ہے اس لئے اس پر ہراساں نہیں ہونا چاہیئے۔مگر حضرت اقدس کو اس بیماری کی حالت میں بھی سکون اور اطمینان تھا کسی قسم کی گھبراہٹ نہ تھی البتہ بیماری کا طبعی نتیجہ ضعف اور کمزوری تھی۔نہ صرف یہ کہ آپ کو موت کا کوئی غم نہ تھا بلکہ آپ کو اپنی موت کا یقین بھی نہ تھا خدا تعالیٰ کی بشارات اور وعدوں کو دیکھتے ہوئے آپ یقین رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ اس سے نجات دے گا۔