حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 93 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 93

حیات احمد ۹۳ جلد دوم حصہ اوّل قدرت کو دیکھو کہ جس الہام کا وہ انکار کرتے تھے جب وہ برا ہم سماج سے الگ ہوکر دیو سماج کے بانی ہوئے تو اس کے ابتدائی سالوں میں خود ملہم ہونے کے مدعی تھے لیکن یہ دعوی حق پر مبنی نہ تھا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بالآخر نہ صرف الہام بلکہ وہ خدا تعالیٰ کے بھی منکر ہو گئے۔(۳) مقدمات میں مصروفیت اس وقت تک آپ کو بعض مقدمات کی پیروی کے لئے بھی جانا پڑتا تھا چنانچہ اگنی ہوتری کو جو آخری خطاب آپ نے اس سلسلہ میں لکھا تھا اس میں آپ کہتے ہیں : " آپ کا مہربانی نامہ عین اس وقت میں پہنچا جبکہ میں بعض ضروری مقدمات کے لئے امرتسر کی طرف جانے کو تھا۔چونکہ اس وقت مجھے دو گھنٹہ کی بھی فرصت نہیں اس لئے آپ کا جواب واپس آ کر لکھوں گا۔“ مکتوبات احمد جلد ا صفحه ۳۲ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) یہ خط آپ نے ۷ ارجون ۱۸۷۹ء کو لکھا تھا۔مقدمہ کی پیروی کے لئے آپ امرتسر جا رہے تھے اور دو گھنٹہ کی بھی فرصت نہ تھی باوجود مصروفیت کے آپ نے اعلاء کلمۃ اللہ کے لئے پھر بھی کچھ وقت نکال کر ایک اطلاعی خط لکھ دیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ خدمت دین اور اشاعت اسلام کے لئے کس قدر جوش اور تڑپ رکھتے تھے۔نیز آپ کو اپنی سچائی اور دلائل کی قوت پر اس قدر یقین تھا کہ اپنے مخالف کے ساتھ مباحثہ کے فیصلہ کے لئے شریف الطبع ثالث خود اسی کے گھر کا تجویز کر دینے سے مضائقہ نہ فرماتے تھے بشرطیکہ اس کی شرافت اور آزاد خیالی مسلّم ہو۔(۴) براہین احمدیہ کے لئے اعلان اسی سال ۱۸۷۹ء میں آپ نے براہین احمدیہ کی تصنیف واشاعت کے لئے اعلان کیا یہ اعلان آپ نے مختلف اخبارات میں شائع کر دیا۔مولوی ابوسعید محمد حسین بٹالوی کے رسالہ اشاعة السنه نمبر چہارم جلد دوم کے ضمیمہ بابت اپریل ۱۸۷۹ء میں نکلا۔منشور محمدی بنگلور میں