حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 92
حیات احمد ۹۲ جلد دوم حصہ اول واقعات کے ضمن میں کرنا ضروری تھا۔غرض اس طرح پر اس سال کا آغاز آریہ سماج پر ایک کامل فتح کے ساتھ ہوا۔کامل فتح میں اس لئے کہتا ہوں کہ یہ خود سوامی دیانند جی کو دعوت تھی۔(۲) اگنی ہوتری سے مباحثہ تحریری اور کامیابی لاہور میں برا ہم سماج کے سب سے بڑے لیڈر پنڈت شو نرائن اگنی ہوتری تھے۔یہ صاحب پہلے گورنمنٹ سکول میں ڈرائنگ ماسٹر تھے۔لیکن اپنی قوت تقریر وتحریر کے لحاظ سے لاہور میں شہرت یافتہ تھے انہوں نے برادر ہند ( ہندو باند ہے ) نام ایک ماہوار رسالہ بھی جاری کیا ہوا تھا ان ایام میں وہ برا ہمو تھے پھر نوکری چھوڑ کر انہوں نے سنیاس لے لیا۔بالآخر براہم سماج سے الگ ہو کر دیو سماج کے بانی ہوئے اور خدا تعالیٰ کے منکر ہو کر فوت ہو گئے۔بحیثیت براہمو ہونے کے انہیں الہام اور وحی سے انکار تھا۔حضرت اقدس اُن کے رسالہ کے باقاعدہ خریدار تھے۔اور اس میں مضامین بھی لکھا کرتے تھے۔مسئلہ الہام پر ان سے تحریری مباحثہ شروع ہو گیا۔اور خودان کے ہی رسالہ میں شائع ہوا۔یہ تحریری مباحثہ جو خط و کتابت کے ذریعہ ہوا۔مئی اور جون ۱۸۷۹ء میں ہوتا رہا۔میں اس کے متعلق کسی قدر تفصیلی حالات حضرت کے سوانح حیات کی جلد اول کے نمبر ۲ میں لکھ آیا ہوں یہاں اس سے زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں کہ حضرت صاحب نے اس مباحثہ کے فیصلہ کو پنڈت سیتا نند اگنی ہوتری صاحب کے مسلمہ ثالث ہی کے سپرد کر دینے کولکھا کہ فریقین کی تحریر میں ایک برہمو اور ایک انگریز ثالث کے پاس بھیج دی جاویں اور ان کی رائے کے ساتھ وہ شائع ہو جاویں۔برہموؤں میں سے آپ نے کشیب چندرسین کا نام صاف طور پر اپنے مکتوب مورخہ ۱۷رجون ۱۸۷۹ء میں لکھ دیا تھا اور انگریز کے متعلق لکھا تھا ” اور ایک انگریز کہ جس کی قوم کی زیر کی بلکہ بے نظیری کے آپ قائل ہیں انتخاب فرما کر اس سے اطلاع بخشیں تو اغلب ہے کہ میں ان دونوں کو منظور کر لوں گا۔اور تحریروں کے متعلق فیصلہ کیا تھا کہ فریقین کی تین تین تحریریں ہوں۔مگر یہ مباحثہ آگے نہ چلا اور پنڈت شو نرائن صاحب ختم کر کے بیٹھ گئے مگر خدا تعالیٰ کی