حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 78 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 78

حیات احمد جلد اول حصہ اوّل بھی ہے۔اور آدم علیہ السلام کی پیدائش بھی جمعہ ہی کے دن ہوئی تھی۔اسی مشابہت کے لحاظ سے حضرت مرزا صاحب بھی جمعہ کے دن پیدا ہوئے۔آپ کی اس پیدائش جمعہ میں بعض اور اسرار بھی ہیں۔جن کو یہاں مفصل ذکر کرنے سے طوالت کا اندیشہ ہے۔میں ناظرین کو اس کے لئے تحفہ گولڑویہ صفحہ ۹۰ سے ۱۰۱ تک پڑھنے کی صلاح دیتا ہوں۔حضرت مرزا صاحب کی پیدائش چھٹے ہزار سال کے آخر میں ہوئی قرآن مجید کے بعض مقامات نیز یہود و نصاری کی وہ پیشگوئی جو بائبل میں سے استنباط کی گئی ہے اس کی مؤید ہے کہ مسیح موعود آدم کی تاریخ پیدائش سے چھٹے ہزار سال کے آخر میں پیدا ہو گا۔چنانچہ قمری حساب کے رو سے جو اصل حساب اہل کتاب ہے میری ولادت چھٹے ہزار کے آخر میں تھی اور چھٹے ہزار کے آخر میں مسیح موعود کا پیدا ہونا ابتدا سے ارادہ الہی میں مقرر تھا۔کیونکہ مسیح موعود خاتم الخلفاء ہے اور آخر کو اول سے مناسبت چاہئے اور چونکہ حضرت آدم بھی چھٹے دن کے آخر میں پیدا کئے گئے ہیں۔اس لئے بلحاظ مناسبت ضروری تھا کہ آخری خلیفہ جو آخری آدم ہے وہ بھی چھٹے ہزار سال کے آخر میں پیدا ہو۔وجہ یہ کہ خدا کے سات دنوں میں سے ہر ایک دن ہزار برس کے برابر ہے۔جیسا کہ خود وہ فرماتا ہے اِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَالْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ (الج : ۴۸) اور احادیث سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ مسیح موعود چھٹے ہزار میں پیدا ہو گا۔اسی لئے تمام اہل کشف مسیح موعود کا زمانہ قرار دینے میں چھٹے ہزار برس سے باہر نہیں گئے۔اور زیادہ سے زیادہ اس کے ظہور کا وقت چودھویں صدی ہجری لکھا ہے۔اور اہل اسلام کے اہل کشف نے مسیح موعود کو جو آخری خلیفہ اور خاتم الخلفاء ہے صرف اس بات میں ہی آدم سے مشابہ قرار نہیں دیا کہ آدم چھٹے دن کے آخر میں پیدا ہوا اور مسیح موعود چھٹے ہزار کے آخر میں پیدا ہو گا۔اور اس کی پیدائش بھی تو ام کے طور پر ہوگی۔یعنی جیسا کہ آدم تو ام کے طور پر پیدا ہوا تھا پہلے آدم اور بعد میں حوا۔ایسا ہی مسیح موعود بھی تو ام کے طور پر پیدا ہو گا۔سو الحمد لله و المنة کہ متصوفین کی اس پیشگوئی کا میں مصداق ہوں۔یعنی روحانی خزائن جلد۷ صفحه ۲۴۳ تا ۲۶۴ ( ناشر )