حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 77 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 77

حیات احمد جلد اوّل حصہ اول ملک داروں کی اولاد میں سے ہوں۔شاید یہ اس لئے ہوا کہ یہ مشابہت بھی حضرت عیسی علیہ السلام کے ساتھ پوری ہو۔اگر چہ میں حضرت عیسی علیہ السلام کی طرح یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ میرے لئے سر رکھنے کی جگہ نہیں مگر تا ہم میں جانتا ہوں کہ وہ تمام صف ہمارے اجداد کی ریاست اور ملک داری کی لپیٹی گئی۔اور وہ سلسلہ ہمارے وقت میں آ کر بالکل ختم ہو گیا اور ایسا ہوا تا کہ خدا تعالیٰ نیا سلسلہ قائم کرتا جیسا کہ براہین احمدیہ میں اُس سُبْحَانَہ کی طرف سے یہ الہام ہے۔سُبْحَانَ اللهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى زَادَ مَجْدَكَ يَنْقَطِعُ ابَاءُ كَ وَيُبْدَءُ مِنْكَ - یعنی خدا جو بہت برکتوں والا اور بلند اور پاک ہے اس نے تیری بزرگی کو تیرے خاندان کی نسبت زیادہ کیا۔اب سے تیرے آباء کا ذکر قطع کیا جائے گا۔اور خدا تجھ سے شروع کرے گا۔“ ) کتاب البریه، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۷۷ تا ۱۷۹ حاشیہ ) غرض حضرت مرزا صاحب کی پیدائش کے ساتھ ہی ملک کی پولیٹیکل حالت میں بھی نمایاں تبدیلی ہوگئی۔بر چھا گردی اور سکھا شاہی دور ہو کر گورنمنٹ انگریزی کا استقلال اور استحکام ہو رہا تھا۔اور خاندان پر جو مصائب اور مشکلات سکھا شاہی میں پڑے تھے وہ بھی خدا کے فضل سے دور ہور ہے تھے۔حضرت مرزا صاحب توام پیدا ہوئے تھے حضرت مرزا صاحب توام پیدا ہوئے تھے اور آپ کے ساتھ پیدا ہونے والا دوسرا بچہ ایک لڑکی تھی جن کا نام جنت رکھا گیا تھا۔وہ چند دنوں کے بعد فوت ہو گئی۔اور فی الواقعہ جنت ہی میں چلی گئی۔مرزا صاحب نے اس معصومہ کے فوت ہونے پر اپنا خیال یہ ظاہر کیا ہے کہ میں خیال کرتا ہوں کہ اس طرح پر خدا تعالیٰ نے انثیت کا مادہ مجھ سے بکلی الگ کر دیا۔حضرت مرزا صاحب جمعہ کے دن بوقت صبح پیدا ہوئے تھے اور پہلے لڑکی پیدا ہوئی تھی۔بعد میں حضرت مرزا صاحب۔حضرت مرزا صاحب کے الہامات میں اَردُدْتُ اَنْ اَسْتَخْلِفَ فَخَلَقْتُ آدَمَ