حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 76 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 76

حیات احمد جلد اوّل حصہ اوّل حضرت مسیح موعودؓ کے حالات زندگی لکھتا ہوں اور سب سے اول اُس حصہ زندگی کو لیتا ہوں جو آپ کی بعثت سے پہلے کا زمانہ ہے۔وَ بِاللهِ التَّوفيق حضرت مرزا صاحب کی پیدائش یہ ایک سنت اللہ ہے کہ جو عظیم الشان انسان دنیا میں آتے ہیں ان کی پیدائش کے دن سے ہی بعض آثار و علامات ایسے شروع ہو جاتے ہیں جو دوسروں کی نظر میں اس وقت قابل لحاظ نہیں ہوتے لیکن بعد میں وہ ایک نشان ٹھہر جاتے ہیں۔حضرت مرزا صاحب کی پیدائش بھی اس قسم کے آثار و علامات سے خالی نہ تھی۔مرزا صاحب کے خاندانی حالات کے مطالعہ سے معلوم ہو گیا ہوگا کہ حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب مرحوم کے آخری ایام تک یہ خاندان انقلاب کے کئی رنگ دیکھ چکا تھا۔اور ایک حکمران خاندان سے ایک زمیندار رئیس خاندان کی حیثیت تک پہنچ گیا تھا۔خدا کی قدرت ہے کہ ان کی پیدائش کے وقت حالات میں تبدیلی پیدا ہو گئی۔اور سکھا شاہی سے ملک کو نجات مل رہی تھی اور انگریزی حکومت کا عہد مضبوط ہو رہا تھا۔چنانچہ حضرت مرزا صاحب خود رقم فرماتے ہیں۔میری پیدائش ۱۸۳۹ ء یا ۱۸۴۰ ء میں سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی ہے۔۔۔میری پیدائش سے پہلے والد صاحب نے بڑے بڑے مصائب دیکھے۔ایک دفعہ ہندوستان کا پا پیادہ سیر بھی کیا۔لیکن میری پیدائش کے دنوں میں ان کی تنگی کا زمانہ فراخی کی طرف بدل گیا تھا۔اور یہ خدا تعالیٰ کی رحمت ہے کہ میں نے ان کے مصائب کے زمانہ سے کچھ بھی حصہ نہیں لیا۔اور نہ اپنے دوسرے بزرگوں کی ریاست اور ملک داری سے کچھ حصہ پایا بلکہ حضرت مسیح علیہ السلام کی طرح جن کے ہاتھ میں صرف نام کی شہزادگی بوجہ داؤد کی نسل سے ہونے کی تھی۔اور ملک داری کے اسباب سب کچھ کھو بیٹھے تھے۔ایسا ہی میرے لئے بھی بگفتن یہ بات حاصل ہے کہ ایسے رئیسوں اور تحقیق کے بعد صحیح تاریخ پیدائش ۱۳ فروری ۱۸۳۵ء ہے۔(ناشر)