حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 75
حیات احمد ۷۵ جلد اوّل حصہ اول حضرت اقدس مرزا غلام احمد صاحب مسیح موعود علیہ السلام کے حالات زندگی ۱۸۳۹ء سے ۱۸۷۹ء تک کے واقعات یعنی چالیس سالہ زندگی ( زمانہ براہین احمدیہ تک کے حالات)۔حضرت مرزا غلام احمد صاحب مسیح موعود علیہ السلام کے حالات زندگی لکھنے سے پیشتر میں ناظرین کو ایک عجیب و غریب واقعہ کی طرف توجہ دلانا ضروری سمجھتا ہوں۔جو اپنے اندر ایک خارق عادت نشان رکھتے ہیں اور وہ دونوں حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب کی اعجازی زندگی سے متعلق ہیں۔ان میں سے ایک یہ ہے کہ مرزا غلام مرتضی صاحب اور مرزا غلام محی الدین صاحب کو رام گڑھیہ سکھوں نے دھوکہ سے گرفتار کر کے قلعہ بسر اواں میں جو قادیان سے دو اڑھائی میل کے فاصلہ پر تھا قید کر دیا۔اور ان کے قتل کا ارادہ کیا وہ اپنے منصوبے میں قریباً کامیاب ہو چکے تھے کہ خدا تعالیٰ نے ے اسباب پیدا کر دئے کہ وہ صاف بچ گئے۔کار دار جو قلعہ بسراواں میں موجود تھا اس نے ان بزرگوں کو بھورے سے نکال کر قتل کا ارادہ کیا اور مرزا غلام مرتضی صاحب کو سختی سے خطاب کرنا چاہا۔وہ اس بات کی برداشت نہیں کر سکتے تھے۔اس لئے بڑی جرات اور جلال سے اسے ڈانٹ کر کہا کہ اپنی زبان کو سنبھالو شرفاء کی طرح بولو۔کاردار نے اپنی جماعت کو جو قلعہ میں موجود تھی پکارا۔جو جمعدار وہاں موجود تھا اُس نے اپنے سپاہیوں کو لے کر کاردار ہی کی سخت مخالفت کی اور اس کو کہا کہ تو شرفاء کے ساتھ اس طرح پیش آتا ہے۔تیری خیر نہیں اس نے ڈر کر مرزا صاحب کو تہ خانہ میں بند کر دیا اور معاملہ دوسرے دن پر ملتوی کر دیا۔خدا کی قدرت دوسرے دن مرزا غلام حیدر جو آپ کا چھوٹا بھائی تھا کمک لے کر پہنچ گیا۔اور مرزا صاحب خدا کے فضل سے بچ گئے۔یہ سب کچھ اس لئے ہوا کہ ابھی حضرت مسیح موعود کی امانت آپ کی پشت میں تھی۔اور یہ گویا آخری تلخی اور مصیبت تھی جو سکھوں کے عہد میں اس خاندان پر ہوئی۔اب میں ذیل میں