حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 39
حیات احمد ۳۹ جلد اوّل حصہ اول انہیں شاہی خاندان سے کچھ ایسا تعلق خاص تھا جس کی وجہ سے وہ اس گورنمنٹ کی نظر میں معزز سرداروں میں سے شمار کئے گئے تھے چنانچہ بادشاہ وقت سے پنجاب میں بہت سے دیہات بطور جاگیر کے انہیں ملے۔اور ایک بڑی زمینداری کے وہ تعلقدار 66 ٹھہرائے گئے۔“ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۶۰ حاشیه ) اس بیان سے ظاہر ہے کہ یہ خاندان ہندوستان میں بہر حال سولہویں صدی مسیحی میں وارد ہوا ہے۔اس کی عظمت اور وجاہت اس سے ظاہر ہے کہ اس علاقہ کی حکومت اس کے ہاتھ میں تھی اور جب تک پنجاب کا ملک دہلی کے تخت کا باجگزار رہا یہ خاندان اسی رنگ میں حکمران رہا اور آخر میں جب سلطنت مغل اعظم میں خلل پیدا ہوا تو بطور طوائف الملو کی کے اس علاقہ کے رئیس مستقل اسی خاندان کے بزرگ تھے۔اور ان کی حکومت ۸۴ یا ۸۵ گاؤں پر ( تھی) وہ کامل فرمانروا تھے۔اور یہ حضرت مرزا گل محمد صاحب حضرت مسیح موعود کے پردادا کا عہد حکومت تھا۔غرض یہ ثابت ہو چکا کہ یہ خاندان ایک عظیم الشان نسل اسحاق کی یادگار اور ایک حکمران خاندان کی شاخ ہے اور اس خاندان کا مورث اعلیٰ مرزا ہادی بیگ تھا جو ہندوستان میں آیا۔حضرت مرزا ہادی بیگ اگر چہ اس ملک میں ایک معزز ریس کی حیثیت سے داخل ہوئے تھے مگر ان کی پچھلی ریاست اور امارت سے بجز چند خادموں اور قدرے قلیل مال واسباب کے اور کچھ بھی ان کے پاس نہ رہا تھا۔ان کی ہجرت کا اللہ تعالیٰ نے یہ ثمرہ بخشا کہ اسی جگہ ان کی ایک مستقل ریاست قائم ہوگئی۔اور ان سے اس خاندان کے اعزاز کا ایک جدید سلسلہ قائم ہوا۔اس ریاست میں کئی پشتوں تک مرزا ہادی بیگ کی اولاد امن و امان سے حکومت کرتی رہی یہاں تک کہ تیرہویں صدی ہجری کی آمد آمد کی آواز کانوں میں آنے لگی۔