حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 40
حیات احمد ۴۰ حضرت مرزا گل محمد صاحب جلد اول حصہ اوّل اسلامی لٹریچر میں یہ صدی نہایت خطرناک اور ظلمت وضلالت کی انتہائی صدی سمجھی گئی ہے اور عوام اور جاہل مسلمانوں تک واقف ہیں کہ اس صدی کے خطرناک مصائب سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈرایا ہے۔اس میں شک نہیں کہ یہ خطرناک تاریکی ایک عظیم الشان روشنی کا پیش خیمہ تھی اور جیسے بہت بڑی بارش آنے سے پہلے امساک باراں ہوتا ہے ویسے ہی مسیح موعود کے آنے سے پہلے ( جو ایک بہت بڑی بھاری روحانیت کی بارش کے مشابہ ہے ) روحانیت کے باران کا امساک ہونا ضروری تھا۔اور جیسے مسلمانوں کے تقویٰ و طہارت اخلاق و اعمال میں انقلاب ہوا اسی طرح ان کی حکومتوں اور سلطنتوں میں بھی زوال آنے لگا۔ہم دنیا کے دوسرے حصوں کے مسلمانوں کے تذکرے کو چھوڑ کر پنجاب اور پنجاب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان تک اپنے واقعات کے سلسلہ کو محدود کر دیتے ہیں۔پنجاب کی پولیٹیکل حالت اس وقت یہ تھی کہ پہلے تو سلطنت عالیہ نے ہی غفلت اور بے پرواہی سے پنجاب کو کسمپرسی کی حالت میں چھوڑ دیا۔بدامنی پھیل گئی۔ڈاکوؤں اور سینہ زور سفاکوں نے شور بپا کر دیا۔اور مختلف جماعتیں بن کر پولیٹیکل رنگ اختیار کر لیا۔جہاں جس کا بس چلا دو چار گاؤں قبضے میں کر لئے اور حاکم بن بیٹھا۔تخت و تاراج عام ہو رہی تھی۔انہیں دنوں میں سکھوں کو مسلمانوں کو تکالیف دینے کا خیال پیدا ہوا۔اُس زمانہ کے سکھ جہالت اور بے علمی کے گڑھے میں غرق تھے۔اور جس طرح جلا دوں کے دل سے رحم اور شفقت کے اجزا نکل جاتے ہیں اسی طرح اس وقت یہ لوگ ہمدردی اور رحم اور شفقت کے خواص سے خالی تھے۔ان کی لوٹ کھسوٹ اور کشت وخون سے شہر اور قصبے ویران ہو رہے تھے آج بھی ان کی یاد تازہ کرنے کے لئے صرف سکھا شاہی کا لفظ بول دینا کافی ہے۔غرض سکھوں کے غلبہ کا زمانہ پنجاب کے مسلمانوں کے لئے دوزخ کا نمونہ تھا۔جس میں مسلمانوں کے اعزاز و اموال اور ریاستیں سب جل رہے تھے۔گویا امت محمدیہ بنی اسرائیل کے مصر میں قبضہ قبطیوں میں محبوس ہونے کی طرح سکھوں کی قید میں پڑ گئی تھی۔بلکہ یہ قید قبطیوں کی قید سے