حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 38
حیات احمد جلد اوّل حصہ اوّل یہ قصبہ کدعہ ( قادیان) ۳۳ درجے طولانی خط استوا میں واقعہ ہے اور یہ وہی طول بلد ہے جس میں دمشق ہے اور یہ ظاہر ہے کہ دمشق سے اس کی سمت مشرقی ہے۔اگر چہ حضرت مرزا ہادی بیگ صاحب کے وہم وگمان میں بھی یہ امر نہ تھا کہ وہ اس قدر دور و در از سفر طے کر کے ایک جنگل میں کیوں قیام کرتے ہیں۔لیکن جس مصلحت الہی نے انہیں خراسان اور کش سے پنجاب کی طرف نکالا۔اُسی نے انہیں اس مقام پر آباد ہونے کی تحریک کی تا کہ اس حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا منشاء پورا ہو جاوے۔جس میں آپ نے فرمایا تھا کہ مسیح موعود کا نزول جانب مشرق دمشق سے ہوگا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔از کلمه مناره شرقی شرقی عجب چوں خود ز مشرق است تحتی نیرم ورودِ پنجاب کا زمانہ یہ بات کہ مرزا ہادی بیگ صاحب ہندوستان میں کب آئے۔اگر چہ اس کی کوئی صحیح تاریخ ہمیں نہیں مل سکی۔لیکن یہ ثابت شدہ امر ہے کہ بابر بادشاہ کے عہد حکومت میں اس خاندان کے بزرگ ہندوستان میں سرپل گریفن کی تحقیقات کے موافق یہ ۱۵۳۰ء کا واقعہ ہے۔حضرت مسیح موعود لکھتے ہیں کہ :۔ان کا غذات اور پرانی تحریرات سے کہ جوا کا بر اس خاندان کے چھوڑ گئے ہیں۔ثابت ہوتا ہے کہ بابر بادشاہ کے وقت میں جو چغتائی سلطنت کا مورث اعلیٰ تھا بزرگ اجداد اس نیاز مند الہی کے خاص سمرقند سے ایک جماعت کثیر کے ساتھ کسی سبب سے جو بیان نہیں کیا گیا ہجرت اختیار کر کے دہلی میں پہنچے اور دراصل یہ بات اُن کا غذات سے اچھی طرح واضح نہیں ہوتی کہ کیا وہ بابر کے ساتھ ہی ہندوستان میں داخل ہوئے تھے یا بعد اس کے بلا توقف اس ملک میں پہنچ گئے لیکن یہ امرا اکثر کاغذات کے دیکھنے سے بخوبی ثابت ہوتا ہے کہ گو وہ ساتھ پہنچے ہوں یا کچھ دن پیچھے سے آئے ہوں مگر ترجمہ: مشرقی منارہ والی بات سے تعجب نہ کر کہ جبکہ میرے سورج کا طلوع مشرق سے ہے۔