حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 434 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 434

حیات احمد ۴۳۴ جلد اول حصہ سوم اچھا نکالو۔جب میں نے چارپائی نکالی تو آپ مسکرا پڑے۔اور فرمایا لڑکا تو ہوشیار ہے۔میرا کام یہ مقرر ہوا کہ میں آپ کے گھر سے روٹی لے آیا کروں۔اور حضرت کے پاس کھالیا کروں۔اور نماز آپ کے ساتھ پڑھنے جایا کروں۔ان ایام میں حضرت کا کام مرزا اسماعیل بیگ کہتے ہیں کہ اُن ایام میں حضرت صاحب کوئی مسودہ لکھا کرتے تھے۔اور قرآن مجید پرنشان کرتے رہتے تھے۔میں نے شاید کسی دوسری جگہ بیان کیا ہے کہ حضرت نے قرآن مجید بے انتہا مرتبہ پڑھا ہے آپ کے پاس ایک حمائل تھی۔میں نے اس حمائل کو خود دیکھا ہے۔اور اس پر سے لے کر اپنی ایک حمائل پر وہ نشان کئے تھے جو حضرت نے احکام القرآن کے لئے لگائے ہوئے تھے۔حضرت کا منشاء تھا کہ ایک رسالہ احکام القرآن تحریر فرما دیں اور جستہ جستہ اس کے نوٹ بھی لکھے تھے۔پھر آپ کا خیال ہوا تھا کہ رسالہ قرآنی صداقتوں کا جلوہ گاہ میں اُسے شائع کریں۔غرض یہ ان نشانات کی طرف مرزا اسماعیل بیگ صاحب اشارہ کرتے ہیں یہ بچے تھے۔انہیں تو کچھ معلوم نہ تھا کہ کیا لکھ رہے ہیں اور کیوں نشان کرتے ہیں۔وہ صرف واقعہ بتاتے ہیں کہ اُن ایام میں آپ کا شغل یہ تھا۔یہی زمانہ وہ تھا جبکہ آپ آریوں سے مباحثات تحریر کر رہے تھے۔اور یہی وہ زمانہ ہے کہ جبکہ براہین احمدیہ کی تصنیف کا کام شروع ہو رہا تھا۔حضرت مرزا اسماعیل کو بہلایا کرتے چونکہ مرزا اسماعیل بیگ بچہ ہی تھا۔اور اسے کھیلتے ہوئے ہی حضرت کی خدمت میں پہنچا دیا گیا تھا۔حضرت کسی نہ کسی وقت اس کو بہلایا کرتے۔اور پھر اس کے واقعات زندگی سن کر ان پر خوشی اور تعجب کا اظہار کرتے۔منجملہ اس کے مرزا اسماعیل بیگ پر ایک بھیڑیے کے حملہ کا واقعہ تھا۔مرزا اسماعیل بیگ خود کہتے ہیں کہ