حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 433 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 433

حیات احمد ۴۳۳ صبح کا بھولا شام کو گھر آ گیا جلد اول حصہ سوم آپ کی طبیعت ملازمت سے کراہت کرتی تھی۔والد صاحب کے حکم کی تعمیل میں چلے گئے اور پھر وہاں کے حالات دیکھ کر چلے آئے۔والد صاحب نے اس پر آپ کو کچھ کہا نہیں اس لئے کہ وہ بھی جانتے تھے کہ آپ کی فطرت کسی اور کام کے لئے وضع ہوئی ہے۔وہ دنیا کے اصول تدبیر پر کوشش کرتے تھے اور چاہتے تھے کہ یہ دنیوی ترقی کریں مگر وہاں کچھ اور ہی مقصود تھا۔میرزا اسماعیل بیگ کو خدمت کی سعادت کیونکر ملی مرزا اسماعیل بیگ جو آج کل قادیان میں دودھ فروشی کرتا ہے ۱۸۷۷ء یا ۱۸۷۸ء کے قریب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں آیا اور آپ کی زندگی کے آخری ایام تک کسی نہ کسی نہج سے آپ کی خدمت میں رہے۔وہ بیان کرتے ہیں کہ میرے تایا زاد بھائی مرزا غلام اللہ صاحب مرحوم مرزا اعظم بیگ صاحب کے بیٹے اکبر بیگ صاحب کے ہمراہ ٹر کی جانے والے تھے۔حضرت نے انہیں فرمایا کہ کوئی لڑکا چاہئے جو میرے لئے گھر سے روٹی وغیرہ لے آیا کرے۔اس پر مرزا غلام اللہ صاحب نے عرض کیا کہ میرا چچا زاد بھائی اسماعیل بیگ ہے۔نماز کا پابند ہے۔آپ نے فرمایا اسے میرے پاس لے آؤ۔میری والدہ سے پوچھ کر وہ مجھے جب کہ میں کھیلتا تھا اپنے ساتھ لے گئے۔اگرچہ میں نے کہا کہ میں میاں جان محمد صاحب سے پڑھتا ہوں مگر انہوں نے کہا کہ میں وعدہ کر آیا ہوں تم چلو اور اس طرح پر وہ مجھے لے گئے۔میری عمر اس وقت نو دس سال کی تھی۔مجھے حضرت کے سامنے پیش کیا۔اور میرے باپ کا نام سن کر آپ نے میری پشت پر ہاتھ پھیر کر کہا کہ اس کا باپ نیک اور بھلا مانس تھا۔آپ نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تو میرے پاس رہے گا ؟ اور پھر فرمایا کہ ہر وقت یہاں حاضر رہنا پڑے گا ؟ پھر دریافت کیا کہ کیا چار پائی باہر نکال سکتا ہے۔میں نے کہا ہاں۔آپ نے فرمایا