حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 431
حیات احمد ۴۳۱ جلد اول حصہ سوم لوگوں کو مغالطہ دینا اور خدا تعالیٰ کے عظیم الشان نشانات کو جو غیب مُصفی کا نمونہ تھے مشتبہ کرنا تھا۔مگر خدائی فضل کو دیکھو کہ جلد ۱۵ میں وہ اس سوال کو پیش کرتا ہے۔اور جلدے میں یہ لکھتے ہیں کہ ” مؤلّف براہین احمدیہ کے حالات و خیالات سے جس قدر ہم واقف ہیں ہمارے معاصرین سے ایسے واقف کم نکلیں گے۔مؤلف صاحب ہمارے ہم وطن ہیں بلکہ اوائل عمر کے (جب ہم قطبی و شرح ملا پڑھتے تھے ) ہمارے ہم مکتب۔اس زمانہ سے آج تک ہم میں اُن میں خط و کتابت و ملاقات و مراسلات برابر جاری رہی ہے۔اس لئے ہمارا یہ کہنا کہ ہم اُن کے حالات و خیالات سے بہت واقف ہیں مبالغہ قرار نہ دیئے جانے کے لائق ہے۔“ اپنی رائے کی وقعت کے اس اظہار کے ساتھ وہ حضرت اقدس کے متعلق براہین احمدیہ پر ریویو کرتے ہوئے کہتا ہے :- اس کا مؤلف بھی اسلام کی مالی و جانی و قلمی ولسانی و حالی و قالی نصرت میں ایسا ثابت قدم نکلا ہے جس کی نظیر پہلے مسلمانوں میں بہت ہی کم پائی گئی ہے۔“ اور بھی متعدد اقتباسات اس ریویو سے کئے جا سکتے ہیں۔مگر ان کے لئے اس کتاب کا دوسرا حصہ ہوگا اس اقتباس سے یہ ظاہر ہے کہ مولوی محمد حسین صاحب حضرت اقدس کے ناصر الاسلام ہونے اور ناصر اسلام کی حیثیت سے منفرد ہونے کے خود قائل تھا۔اور لوگوں کو توجہ دلا رہا تھا پھر اس کا وہ سوال کیا وقعت رکھتا ہے؟ غرض قیام بٹالہ میں آپ کی پاکیزہ زندگی کا اثر عام تھا اور لالہ بھیم سین پر تو مُدَّةُ العُمر رہا۔اور وہ اپنی زندگی کے آخری سانس تک حضرت سے محبت اور تعلق رکھتے تھے۔اور ان کے صاحبزادہ لالہ کنورسین صاحب بھی اسی عزت اور عظمت سے دیکھتے ہیں۔لالہ بھیم سین صاحب نے آپ کی زندگی کا وہ زمانہ دیکھا تھا۔جو آپ کا عہد شباب تھا اور طالب علمی کے ایام تھے۔آپ خوبصورت اور وجیہ جوان تھے۔ہر طرح آزادی اور فارغ البالی