حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 432
حیات احمد ۴۳۲ جلد اول حصہ سوم تھی۔دنیا میں کسی دعوے کو لے کر آپ کھڑے نہ ہوئے تھے۔اُن بے تکلفی کے ایام میں اگر آپ کی زندگی اعلیٰ درجہ کی نہ ہوتی۔تو وہ مُدَةُ العُمر آپ کے مدح خواں اور مخلص دوست نہ رہتے۔خودمولوی محمد حسین صاحب نے آپ کی اس زندگی پر باوجودشدید مخالفت کے کبھی اعتراض نہیں کیا۔اور نہ کوئی الزام آپ کے چال چلن کے متعلق لگایا۔باوجود یکہ وہ بہت بڑا عالم اور محدث تھا اور اُسے شہرت اور عزت عام حاصل ہو چکی تھی لیکن اس حالت میں بھی وہ حضرت کے لئے اپنے دل میں عزت و احترام کے وہ جذبات رکھتا تھا کہ آپ کا جوتا اٹھا کر آپ کے سامنے سیدھا کر کے رکھتا تھا اور اپنے ہاتھ سے آپ کا وضو کرانا اپنی سعادت سمجھتا تھا۔میں ان باتوں کو کہتے ہوئے خدا شاہد ہے یہ مد نظر نہیں رکھتا کہ اس سے مولوی محمد حسین صاحب کی کسی طرح بھی حقارت کروں بلکہ میں ان امور کو اس حالت میں اس کے لئے باعث عزت سمجھتا ہوں کہ یہ عمل صالح ہے اور علمی ناز سے الگ ہو کر مخلصانہ رنگ سے رنگین ہے میرا مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ زمانہ طالب علمی اور عہد شباب کے بے تکلف واقف و آشنا آپ کی پاک زندگی کے زندگی بھر گواہ رہے۔قیام بٹالہ میں آپ کے مشاغل کا ذکر بھی آچکا ہے۔آپ ہمیشہ خلوت کو پسند کرتے تھے اور اپنی تعلیم میں مصروف تھے اور فارغ اوقات میں ان کتابوں کا مطالعہ کرتے تھے جو مخالفین اسلام نے لکھی ہیں یا ان کے جواب میں مسلمانوں نے تحریر کی ہیں۔اس عمر میں بھی آپ تہجد اور نوافل کے پڑھنے کے با قاعدہ عادی تھے اور دعاؤں میں مصروف رہتے تھے۔آپ کا قیام اپنی حویلی میں ہوا کرتا تھا زندگی سادہ تھی کھانے پینے کی طرف بہت کم توجہ تھی۔اور بہت تھوڑی غذا کھایا کرتے تھے۔پہلے بندو بست میں ایک دن کی نوکری ۱۸۵۲ ء میں جب بندو بست شروع ہوا تو اس کا ہیڈ آفس اس ضلع میں بمقام دینا نگر تھا۔حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب مرحوم کی تحریک پر یہ تجویز ہوئی کہ آپ بندوبست میں ملازم ہو جائیں۔تا کہ ابتدائی کام سیکھ کر جلد ترقی حاصل کر سکیں۔چنانچہ اس مقصد کے لئے آپ کو دینا نگر بھیجا گیا اور آپ ملازم بھی ہو گئے مگر ایک دن سے زیادہ عہد ملا زمت نہ رہا۔