حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 430 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 430

حیات احمد ۴۳۰ جلد اول حصہ سوم نے بھی اس عہد شباب میں حضرت کے طرز عمل کو خوب دیکھا تھا مگر عداوت کا بُرا ہو کہ یہ انسان کی خوبیوں اور کمالات کو مشکوک کرنے میں انصاف اور دلائل کو پرے پھینک دیتی ہے۔مجھ کو یہ واقعہ اس لئے لکھنا پڑا کہ مولوی محمد حسین صاحب نے اپنے رسالہ اشاعة السنه جلد ۵ نمبر میں کچھ سوالات شائع کئے تھے۔جن میں سے اکیسواں سوال یہ تھا۔بٹالہ کے مولوی گل علی شاہ صاحب اور ان کے بعض متعلقین علم جفر میں دخل رکھتے تھے۔اور آپ کو ان سے صحبت و استفادہ کا تعلق تھا یا نہیں؟ اس سوال کی غرض اور مقصود ظاہر ہے۔وہ اُن خوارق اور اعجازی نشانات کو جو حضرت کے ہاتھ پر ظاہر ہوئے۔اپنے خیال میں مشکوک کرنا چاہتا ہے۔میں اس وقت اس کا رڈ نہیں کرنا چاہتا۔اس لئے کہ میں آپ کے سوانح کے اس حصہ میں آؤں گا تو انشاء اللہ واقعات کی روشنی میں اس پر بحث کرنے کی خدا کے فضل اور رحم سے توفیق کا امیدوار ہوں۔یہاں پر میرا مقصد صرف سلسلہ سوانح ہی میں اس پر نظر کرنے کا ہے۔حضرت اقدس نے کبھی اس امر سے انکار نہیں کیا کہ مولوی سید گل علی شاہ صاحب سے آپ نے تلمذ نہیں کیا۔مگر آپ نے ان سے جو کچھ سیکھا اس کا خود ذکر کیا ہے کہ ”میں نے نحو، منطق اور حکمت وغیرہ علوم مروجہ کو جہاں تک خدا تعالیٰ نے چاہا۔حاصل کیا۔“ خود مولوی محمد حسین صاحب اہلِ حدیث کے سرگر وہ کہلا کر اور اپنے عالم یکتا ہونے کے مدعی ہو کر کبھی جفر وغیرہ کے قائل نہ تھے۔اور اگر صرف مولوی سید گل علی شاہ صاحب سے نحو اور منطق پڑھنے سے جفر بھی آسکتا تھا تو یہ مولوی محمد حسین صاحب بھی اس میں صاحب کمال ہوتے اور حضرت کا مقابلہ کر کے دکھاتے مگر یہ تو محض ایک لغو قصہ تھا اور ہے۔ان کی غرض غور نہ کرنے والے بقیہ حاشیہ:۔روحوں کا ثابت ہے۔اور کوئی امر زیر بحث باقی نہیں رہا۔اور سب عذرات آپ کے رفع ہو گئے۔اور سب امور تصفیہ طلب طے ہو چکے۔اور کوئی وجہ نہیں کہ اب کیوں فیصلہ دینے میں توقف ہو۔پس حضرت مطلع رہو کہ آپ پر ڈگری ہوئی۔منہ