حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 34 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 34

حیات احمد ۳۴ جلد اوّل حصہ اوّل انقلاب معمولی واقعات ہیں۔اور دنیا کی تاریخ ایسے واقعات سے بھری ہوئی ہے۔آجکل یعنی جس زمانہ میں میں یہ لائف لکھ رہا ہوں (۱۹۱۵ ء ) کو یورپ کے محاربہ عظیم نے تمام نسبی اور خونی تعلقات کو قطع کر دیا ہے۔بہر حال تیمور نے اپنی حکومت کا دامن وسیع کر دیا۔اس وقت کی تاریخ سے جو جغرافیائی کیفیت معلوم ہوتی ہے اس سے پتہ لگتا ہے کہ تمام علاقہ جو والگا سے بحیرہ فارس تک اور افغانستان و بلوچستان سے بخارا تک پھیلا ہوا ہے فارس کہلاتا تھا۔بلکہ بقول بعض، اکثر حصہ افغانستان و بلوچستان موجودہ اور دریائے گنگا کے منبع سے شمالی علاقہ جو کاشغر کی طرف پھیلا ہوا ہے اسی میں داخل تھا۔اور رکش بھی انہیں حدود کے اندر ہے۔لیکن خلفاء عباسیہ کے زمانہ میں یہ علاقہ ماوراء النہر کا ایک حصہ شمار ہوتا تھا۔اور ایک حدیث میں جو مخرج مہدی کا نشان ماوراء النہر بتایا گیا۔(دیکھو النجم الثاقب جلد ۲ صفحہ ۱۸۲) اس کی تصدیق بھی اس سے ہو جاتی ہے۔جب کش کی حکومت سے تیمور نے اپنے چا حاجی برلاس کو نکال دیا تو انہوں نے خراسان میں پناہ لی تھی اور وہ وہیں فوت ہو گئے تھے۔تیمور نے پیچھے خراسان کا علاقہ فتح کر کے اپنے چچا کی اولا د کو جاگیر میں دے دیا۔اس لئے انہوں نے وہاں ہی بود و باش اختیار کی۔میرزا ہادی بیگ جو حضرت مرزا غلام احمد صاحب مسیح موعود علیہ السلام کے مورث اعلیٰ ہیں۔خراسان میں ہی پیدا ہوئے تھے۔اور اس طرح پر مسند امام احمد بن حنبل میں جو حدیث لکھی ہے۔جس میں مہدی کا خروج خراسان سے لکھا ہے۔اگر ہم ٹھنڈے دل سے غور کریں تو اس کا مطلب یہی تھا۔جو مرزا ہادی بیگ کے وجود سے سچا ہوا۔کیونکہ اس بزرگ کی نسل سے وہ شہسوار ہدایت پیدا ہوا جو مہدی کہلایا۔بر لاس قوم کی ایک خصوصیت برلاس قوم کو دینی علوم اور عملی حالت کی اصلاح کا خاص طور پر خیال رہا ہے۔چنانچہ کش جو قوم برلاس کا ایک صدر مقام بن گیا تھا۔وہ کثرت صلحاء و علماء وفقہاء کی وجہ سے خصوصیت سے مشہور تھا ( دیکھو تواریخ فارس مرتبہ مارخم ) اس قوم نے اللہ تعالیٰ کو ایسا راضی کر لیا تھا کہ ہر قسم کے انعامات کے لئے یہی قوم منتخب ہو گئی تھی اور قرآن مجید میں جیسے جَعَلَ فِیكُمْ أَنْبِيَاءَ وَجَعَلَكُمْ قُلُوكًا (المائدة: ٢١) النجم الثاقب مطبوعه مطبع احمدی مغلپورہ پٹنہ۔سن اشاعت ۱۳۱۰ھ